رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 389
389 صرف خلاصہ بیان کر دیتا ہوں میں نے رویا میں اپنے آپ کو کسی شہر میں دیکھا۔کوئی بازار ہے جس میں سے میں گزر رہا ہوں میرے آگے آگے درد صاحب (مولوی عبدالرحیم صاحب درد) جا رہے ہیں اتنے میں ایک کونے میں سے کسی شخص نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر پولیس اور کچھ فوج آپہنچی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درد صاحب اور میں کسی ضروری کام کے لئے جارہے ہیں جب ادھر سے شور ہوا اور پولیس اور فوج آپہنچی تو ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ گورنمنٹ ہم پر کوئی الزام نہ لگا دے کہ ان کا بھی اس فساد میں کوئی ہاتھ ہے۔میں نے دیکھا کہ درد صاحب تیزی کے ساتھ وہاں سے نکل جانا چاہتے ہیں ان کے تیزی سے چلنے کی وجہ سے میرے اور ان کے درمیان دو تین سو گز کا فاصلہ ہو گیا۔یکدم مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درد صاحب کے پاس کچھ سلسلہ کے کا غذات ہیں اور انہیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اگر گورنمنٹ تلاشی لے تو یہ کاغذات ان سے چھین نہ لئے جائیں وہ کاغذات گورنمنٹ کے خلاف تو نہیں ہیں مگر چونکہ وہ جماعت سے تعلق رکھنے والے ضروری کا غذات ہیں اس لئے خطرہ ہے کہ پولیس تلاشی کے وقت ان کو قبضہ میں نہ لے لے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک مکان کے اندر چلے گئے وہاں میں نے دیکھا کہ درد صاحب او ہو " کرتے ہوئے پیچھے کو دوڑے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاغذات پیچھے رہ گئے ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ کہیں پولیس ان کا غذات پر قبضہ نہ کرلے۔میں نے ان کی یہ گھبراہٹ دیکھ کر یہ فیصلہ کیا کہ میں ان کاغذات پر جا کر قبضہ کرلوں اور واپس لوٹ کر جلد جلد پیچھے کی طرف چلا مگر پھر نہ معلوم کاغذ لے کر یا ان کے بغیر واپس ہو گیا جدھر ہم پہلے جا رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک مکان کے اندر چلے گئے وہاں میں نے دیکھا کہ کچھ غیر احمدی ہیں ایک درد صاحب اور ایک میں ہوں اس کے بعد مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے حکام دروازے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ اس مکان کے اندر آکر مسلمانوں کو اور خصوصاً ہمارے متعلق دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں ہیں یا نہیں۔اتنے میں صاحب خانہ نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ اوپر چڑھ جائیں مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی پوشیدہ جگہ ہے پہلے کچھ غیر احمدی اوپر چڑھے اور پھر میں چڑھا وہ جگہ ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے جہازوں کے اندر سیڑھیاں ہوتی ہیں اور وہ جگہ بہت تنگ سی ہے۔میں اوپر چڑھ کر اس سوراخ کے دائیں بائیں لاتیں پھیلا کر لیٹ گیا جس جگہ میں لیٹا ہوں وہاں میرے اوپر ایک کینوس (Canvas) پڑی ہے میرا منہ تو نگار ہا اور باقی سارا