رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 388
388 427 15/14۔جون 1947ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ چار پانچ لنگور ہیں جو میرے بائیں طرف سینے کے ساتھ چھٹے ہوئے ہیں ممکن ہے وہ کوئی اور چیز ہوں مگر خواب میں میں ان کو لنگو رہی سمجھتا ہوں لیکن وہ اتنے چھوٹے چھوٹے ہیں کہ اگر ہاتھ کی ہتھیلی کو پھیلا دیا جائے تو اس میں آسکتے ہیں وہ سارے کے سارے بڑے زور کے ساتھ میرے سینے کو پکڑے ہوئے ہیں میں اپنے دل میں خیال کرتا ہوں کہ جب میں ان کو ہٹانے لگوں گا یہ میرا ضرور مقابلہ کریں گے اور میں سوچتا ہوں کہ کونسا مناسب موقع ہو کہ ان کو ہٹایا جائے۔میں اسی فکر میں تھا کہ میں نے خیال کیا کہ اب ان کو ہٹانا چاہئے۔یہ سوچ کر میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ میں ان کو ہٹاؤں مگر جب میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو انہوں نے بھی اپنے ہاتھ لمبے کر کے میری کلائی پکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے میرے سینہ پر زور دینا شروع کیا اس وقت ان کا زور اچھا خاصا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ اکٹھا زور ڈال رہے ہیں اور انہوں نے میرا ہاتھ اس طرح پکڑا ہوا ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے ہاتھ کو وہ اپنی طرف نہیں جانے دیں گے اس وقت پھر میں اپنے دل میں سوچتا ہوں کہ اس وقت موقع ہے یا نہیں کہ میں ان کو ہٹاؤں۔میں اسی تردد میں تھا کہ آخر میں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اب ان کو پکڑ کر پرے پھینک دینا چاہئے یعنی جب یہ فیصلہ کر کے میں نے اپنے ہاتھ کو زور سے آگے بڑھایا تو وہ ایک ہی جھٹکے سے مُردہ جسموں کی طرح دور جا کر گر گئے اس وقت میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلنے پر بھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ واقعہ سچ سچ ہو رہا تھا۔فرمایا : اس خواب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چار یا پانچ کی تعداد میں ہمارے دشمن ہیں یا بعض نقصان دہ چیزیں ہیں یعنی یا تو چار یا پانچ چیزیں ہیں یا چار پانچ فرقے ایسے ہیں جن کا تھوڑا بہت دباؤ احمدیت پر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ان سب دشمنوں کو دور پھینک دے گا اور جماعت کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔الفضل 25۔جون 1947ء صفحہ 1 428 17 جون 1947ء فرمایا : آج رات میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے اس کے بعض حصے بتانا میں مناسب نہیں سمجھتا