رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 364
364 آسکتیں۔ہماری جماعت کو دن رات دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے کہ خدا تعالٰی موجودہ بے چینی اور بدامنی کو دور فرمائے۔آمین۔الفضل 11۔نومبر 1946ء صفحہ 1 37 5۔نومبر 1946ء 412 فرمایا : آج رات میں نے رویا میں دیکھا ایک خیمہ سا معلوم ہوتا ہے میں اس کے اندر بیٹھا ہوں اس جگہ میاں بشیر احمد صاحب بھی ہیں اور ایک باہر سے آئے ہوئے ہیں کوئی غیر احمدی صوفی بھی ہیں۔میرا خیال ہے وہ خواجہ حسن نظامی صاحب تھے اتنے میں دروازہ کھلا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کچھ سکھ باہر کھڑے ہیں اور وہ دروازہ میں سے اندر جھانک رہے ہیں۔وہ سکھ کچھ حیران سے معلوم ہوتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں یہ خبر مشہور ہوئی تھی کہ مجھ کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور اس کے ڈسنے سے میری موت واقع ہو گئی ہے وہ بار بار جھانکتے اور مجھے دیکھتے ہیں اور مجھے دیکھ کر وہ بڑے حیران ہوتے ہیں کہ میں تو بالکل خیریت سے بیٹھا ہوں وہ بہت متاثر ہیں میں نے ان کو بلایا اور کہا۔اندر آجائیں وہ اندر آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے آپ لوگ کیوں یہاں آئے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے سنا تھا کہ آپ کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور ہم نے آپ کے متعلق بری بری باتیں سنی تھیں جس کی وجہ سے ہم سخت گھبرائے ہوئے تھے مگر آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور اس قسم کے الفاظ بھی انہوں نے کہے کہ پر میشور کی بڑی دیا ہو گئی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ ہاں مجھے سانپ نے ڈسا تو تھا مگر خد اتعالیٰ نے فضل کیا اور خیریت رہی۔اس وقت میرے ذہن میں وہ رویا آتی ہے جو چند دن پہلے شائع ہو چکی ہے اور اس رویا کو میں خواب میں حقیقت سمجھتا ہوں لیکن اس فرق سے کہ رؤیا میں تو تھا کہ سانپ مجھے سے پچھلی قطار کے پاس نکلا تھا اور دوستوں نے اسے مار دیا تھا مگر میں خواب میں خیال کرتا ہوں کہ اس نے مجھے کا ٹا بھی تھا چنانچہ میں نے ان کو اپنا دائیں پیر کا انگوٹھا دکھایا اور کہا کہ یہاں سانپ نے مجھے ڈسا تھا مگر مجھے تو کچھ بھی تکلیف نہیں ہوئی۔صرف اس جگہ کا چمڑا کچھ کالا سا معلوم ہو تا ہے میری اس بات کو سن کر وہ بہت متاثر ہوئے اور یہ دیکھ کر کہ اللہ تعالیٰ خود میری حفاظت کر رہا ہے ان میں اس قدر عقیدت پیدا ہوئی کہ جیسے سکھوں میں رواج ہے کہ وہ اظہار عقیدت کے طور پر سجدہ کرتے ہیں ان میں سے ایک بڑھا سکھ آگے بڑھا اور اس نے مجھے سجدہ کرنا چاہا جب وہ