رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 348

348 پورا کیا جائے اب میں اور روپیہ نہیں دے سکتا مگر بات کرتے کرتے مجھے اپنا ر و یا یاد آگیا اور میں نے کہا کہ بہت اچھا۔میں اور روپیہ دے دوں گا اس طرح یہ رویا چند دن میں ہی پورا ہو گیا پیغام لانے والی بھی ام متین تھیں جن کا نام مرحومہ کی طرح مریم ہے اور شرعی طور پر وہ بھی امتہ الحکیم کی ماں ہیں۔الفضل 31۔اکتوبر 1946 ء صفحہ 2 اکتوبر 1946ء 404 فرمایا : قادیان آکر میں نے یہ رویا دیکھا کہ سارہ بیگم مرحومہ میرے سامنے آئی ہیں۔میں ان کی شکل خواب میں بالکل ویسی ہی دیکھتا ہوں جیسی کہ جاگنے میں نظر آتی تھی گویا اس وقت مجھے معلوم ہی نہیں ہو تا کہ یہ خواب دیکھ رہا ہوں شکل تو کلی طور پر وہی ہے مگر ان کے چہرے پر کچھ اداسی سی معلوم ہوتی ہے ویسے چہرہ روشن ہے اور لباس بھی بہت اچھا ہے میں نے کہا سارہ ! تمہارے چہرے پر اداسی کیوں ہے؟ وہ کہتی ہے۔میرے تین بہن بھائی بیمار ہیں۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف ہے۔وہ کہتی ہیں بڑے بھائی ہیں۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف ہے۔وہ کہتی ہیں بڑے بھائی بہن اور چھوٹے بھائی کے پیٹ میں کیڑے ہیں۔یہ سن کر مجھے تعجب ہوا کہ ان کا چھوٹا بھائی تو کوئی نہیں پھر انہوں نے چھوٹے بھائی کا کس طرح ذکر کر دیا چنانچہ میں نے کہا۔چھوٹا بھائی کونسا؟ انہوں نے کہا۔مجنہ۔میں خیال کرتا ہوں کہ مجنہ تو کوئی نام نہیں ہو تا شاید مجتہ ہو۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے اس رویا کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ممکن ہے پیٹ میں کیڑے ہونے سے مراد ٹائیفائیڈ مراد ہو چونکہ سارہ مرحومہ کا چھوٹا بھائی کوئی نہیں۔اس لئے میں نے اس سے یہ مراد لیا کہ ممکن ہے بھائیوں اور بہن سے مراد ان کی اپنی اولاد ہو کیونکہ سارہ مرحومہ نے میری بیعت کی ہوئی تھی اور اس طرح ان کی اولاد روحانی لحاظ سے ان کے بھائی بہن بھی کہلا سکتے ہیں ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا کہ بچوں کو ٹائیفائیڈ کا ٹیکہ کر دیا جائے۔الفضل 31۔اکتوبر 21946 فرمایا : اس رویا میں در حقیقت فسادات بہار کی طرف اشارہ تھا۔سارہ بیگم بہار کی رہنے والی تھیں ان فسادات کے وقت ان کا بڑا بھائی اور ان کا سب سے چھوٹا بھائی اور بہن بہار میں تھے۔اور انہی کو