رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 328

328 گھبراہٹ سے اشارے کرنے شروع کئے اور گو وہ کرتا تو اشارے ہی ہے لیکن آخر میں اس کے اشاروں سے یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں موٹر پرے رکھنی چاہئے کیونکہ سامنے ایک شیر ہے۔ایسانہ ہو کہ وہ ہم پر حملہ کر دے تب میں نے پہاڑی سے دامن کی طرف جو نظر کی تو مجھے مندرجہ ذیل شکل کا نظارہ نظر آیا۔ایک دوسرا شخص جس کے ہاتھ میں بھی بندوق ہے اشارہ کرنے والا شخص جس کے ہاتھ میں بندوق ہے الف موٹر الف طرف سے باء کی طرف جارہی ہے با پہاڑ میں تین محراب سے ہیں جن میں گڑھا سا ہے اور وہ مسجد کے محراب کی شکل کے ہیں۔ہر محراب میں کھڑا ہوا شخص اپنے پاس کے محراب کے اندر نہیں دیکھ سکتا۔جس طرف موٹر آکر کھڑی ہوئی ہے وہاں بھی ایک شخص ہے اور اس کے پاس بندوق ہے اس کے ساتھ کے محراب میں جس کے قریب ہماری موٹر جا کر کھڑی ہوئی ہے شیر کھڑا ہے اور اس سے پر لے محراب میں وہ شخص تھا جو ہمیں سب سے پہلے نظر آیا اور جو پہلی محراب والے شخص کی طرح بندوق سے مسلح ہے۔اس وقت یوں معلوم ہوا جیسے دائیں اور بائیں کے دونوں شخص موقع ملنے پر آگے بڑھ کر شیر کی طرف گولی چلا دیتے ہیں اور پھر اپنے اپنے محراب میں گھس جاتے ہیں مگر اس وقت تک شیر کو کوئی گولی لگی نہیں۔جب موٹر کھڑی ہو گئی اور موٹر میں سے ہم اتر آئے اور حفاظت کے خیال سے موٹر کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو جو شخص مجھے پہلے نظر آیا تھا اس نے ہمارے پاس بندوق دیکھ کر مجھے اشارہ کرنا شروع کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ شیر پر ہم لوگ بھی فائر کریں کیونکہ ہم شیر کے سامنے ہیں اور ہمارے لئے زیادہ موقع ہے کہ ہم شیر پر زیادہ کامیاب حملہ کر سکیں۔اس پر میں نے بندوق اپنے ہاتھ میں لے لی اور دیکھا کہ میرے ساتھ اس وقت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں خان میر افغان ہیں۔خان میر صاحب کے گلے میں کارتوسوں کی پیٹی ہے۔ان کو