رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 327
1 327 کے بعد میں بھول گیا اتفاقاً ایک دن میں اور دوسرے دوست سیر کر رہے تھے اور ڈاکٹر عبد الاحد صاحب جو کالج کے سائنس کے شعبہ کے انچارج بھی ہیں ان دنوں ڈلہوزی آئے ہوئے تھے۔میری ان پر نظر پڑی اور معا مجھے وہ خواب یاد آگئی اور میں نے ان سے کہا کہ میں نے ایسی ایسی ، خواب دیکھی ہے اور نتیجہ کے متعلق پوچھا کہ کب نکلنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کل نکلے گا پھر انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ غالبا آرٹ کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔سائنس کے نتیجہ کے متعلق انہوں نے کہا کہ ستر اسی فیصد کے قریب نکلے گا لیکن جب نتیجہ نکلا تو معلوم ہوا کہ سائنس کا نتیجہ صرف 41 فیصدی تھا اور گو آرٹ کا نتیجہ بھی ایسا اچھا نہیں نکلا مگر بہر حال سائنس کے نتیجہ سے اچھا تھا۔نتیجہ نکلنے کے بعد نہ صرف یہ خبر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی پوری ہوئی بلکہ اس کا یہ پہلو بھی ایک عجیب حکمت رکھتا تھا جو ماہرین تعبیر کے نزدیک خود خواب کی نسبت کم اہم نہیں ہوتا اور وہ یہ کہ پہلے مجھے خواب بھول گئی پھر ڈاکٹر عبد الاحد صاحب کو دیکھ کر جو سائنس کے انچارج تھے یاد آئی اور انہی سے میں نے یہ خواب بیان کی۔یہ بھی خوابوں کا ایک پہلو ہوتا ہے کہ بعض دفعہ جس شخص کو دیکھ کر خواب یاد آئے وہ اس سے کسی رنگ میں تعلق رکھتی ہے چنانچہ نتیجہ میں یہی ہوا کہ سائنس جس کے متعلق خیال تھا کہ اس کا بہت اعلیٰ نتیجہ نکلے گا اس کا نتیجہ ہی خراب نکلا اور امید ہے سے بہت کم نکلا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس سال ہمارے کالج کا لڑکا سائنس میں فرٹ یا سیکنڈ آئے گا اور اسی طرح ایک دوسرا لڑکا بارھویں یا تیرھویں نمبر تک آجائے گا لیکن جس کی نسبت یہ خیال تھا کہ فسٹ آئے گاوہ کہیں پیچھے رہا اور جس کی نسبت یہ خیال تھا کہ بارھویں تیرھویں نمبر پر آئے گا وہ تو بہت ہی نیچے چلا گیا۔الفضل 23۔اگست 1946 ء صفحہ 1 غالبا کیم یا 2 اگست 1946 ء 395 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں موٹر پر سوار ہوں اور میرے ساتھ دو اور آدمی بھی ہیں موٹر ایک سڑک پر جس کے ساتھ ساتھ ایک ٹیلہ چلا جاتا ہے چل رہی ہے۔وہ ٹیلہ چھوٹی سی پہاڑی کی طرز کا معلوم ہوتا ہے چلتے چلتے سامنے ایک شخص نظر آتا ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہے۔اس نے ہاتھ سے اشارہ کرنا شروع کیا کہ موٹر ٹھہرا لو لیکن ڈرائیو نے اس کے اشارہ کی پرواہ نہ کی اور وہ آگے چلتا چلا گیا۔وہ بندوق والا شخص جو نظر آرہا ہے اس نے اور زیادہ