رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 28

28 مجھے غصہ آتا لیکن معافرشتہ کی نصیحت یاد آجاتی اور میں پہلے سے بلند آواز سے ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہنے لگتا اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا۔یہاں تک کہ سب بلائیں دور ہو گئیں اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔1- یہ رویا میں نے 1912ء میں اگست یا ستمبر میں بمقام شملہ دیکھا تھا اور شملہ میں خواب دیکھنے کا شاید یہ بھی مطلب ہو کہ حکومت کے بعض ارکان کی طرف سے بھی ہماری مخالفت ہو گی۔اس رویا کو آج کچھ ماہ کم 22 سال ہو گئے ہیں۔اس دن سے جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو اس کے اوپر ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " ضرور لکھتا ہوں۔(الفضل 17 اپریل 1935ء صفحہ 6 - 5 ) یہ رویا حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی زندگی میں 1913ء کے شروع میں میں نے دیکھا تھا اس وقت میں نے سمجھا کہ میری زندگی میں کوئی تغیر پیدا ہونے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص کام میرے سپرد کیا جائے گا۔دشمن مجھے اس کام سے غافل کرنے کی کوشش کرے گا وہ مجھے ڈرائے گا دھمکائے گا اور گالیاں دے گا مگر مجھے اللہ تعالی کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ میں ان گالیوں کی طرف توجہ نہ کروں اور خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جاؤں یہی وجہ ہے کہ میرے ہر مضمون پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ "الموعود ( تقریر جلسہ سالانہ 28 - دسمبر 1944ء) صفحہ 114-115۔مزید دیکھیں۔الفضل 4 جولائی 1916 ء صفحہ 11 و 17 جنوری 1935ء صفحہ 10 و 12 - اپریل 1935ء صفحہ 9 و 17 - اپریل 1935ء صفحہ 56 و 20 جولائی 1935 ء صفحہ 67 و 19 - ستمبر 1936ء صفحہ 6 و 18 نومبر 1937ء صفحہ 3 و 5 - دسمبر 1939ء صفحہ 5 و 6 - نومبر 1948ء صفحہ 3 و 8 - دسمبر 1954ء صفحہ 4 و 20- نومبر 1958ء صفحہ 3 4 و 14 - جون 1961ء صفحہ 2 و 16 - اکتوبر 1962ء صفحہ 3 اور تقریر دلپذیر ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1927ء) صفحہ 20-29 41 غالبا 1913ء فرمایا : حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں۔اس وقت ان سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میں نے عذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا۔میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الہی ہے آخر میں نے ان کو شروع