رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 325
325 مگر قید ایسی ہے جیسے شہزادوں کی ہوتی ہے۔حضور کے ساتھ مولوی جلال الدین صاحب شمس بھی ہیں وہاں کے لوگوں کے دلوں میں حضور کی ایسی عظمت ڈالی گئی کہ وہ قیدی سے ملنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے۔حضور قیدی سے ملتے اور دریافت فرماتے ہیں کہ حکومت آپ کس قسم کی باتیں معلوم کرنا چاہتی ہے وہاں حضور سے پوپ بھی ملا جو یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ملنے پر قیدی نے کیا راز بتائے ہیں آگے غیر مبائعین کا بھی ذکر آتا ہے۔الفضل 29۔جون 1946ء صفحہ 3 فرمایا : اس کے بعد میں وہاں سے آگیا ہوں کہہ نہیں سکتا کہ اٹلی سے ہی آگیا ہوں یا روم ہے۔بہر حال ایک میدان میں کھڑا ہوں جو چار پانچ فٹ اونچا ہے۔اس کے سامنے ایک گلی ہے۔اتنے میں کوئی شخص آکر کہتا ہے کہ ایک آدمی آپ سے ملنا چاہتا ہے یہ سن کر میں میدان کے سرے پر آگیا دیکھا تو شیخ مولا بخش صاحب لائل پوری معلوم ہوتے ہیں جو غیر مبائع ہیں ان کے ساتھ ایک دوسرا شخص ہے گورا رنگ جوان آدمی 30/35 سال کی عمر کا معلوم ہوتا ہے۔داڑھی منڈھی ہوئی ہے اور اس نے ڈنر سوٹ پہنا ہوا ہے اس کا رنگ انگریزوں جیسا سفید تو نہیں لیکن ایسا ضرور ہے جیسے ہمارے ملک میں عام طور پر کھلے رنگ کے لوگ ہوتے ہیں۔شیخ پر مولا بخش صاحب کہتے ہیں یہ میرے والد صاحب ہیں جو آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں عجیب بات ہے کہ شیخ صاحب اس وقت اپنی موجودہ عمر کے ہی معلوم ہوتے ہیں وہ صاحب جن کو والد کہتے ہیں ان سے جوان ہیں۔یہ کہ کر شیخ مولا بخش صاحب خود پیچھے ہٹ گئے ہیں۔میں نے کہا آپ دونوں آجائیں میں ان کو لے کر ایک کمرہ کی طرف گیا جو میدان کے کنارہ کے پاس ہی بنا ہوا ہے۔اس کمرہ میں ایک کوچ ایک کھڑکی کے ساتھ جو فرنچ ونڈو کی طرز کی ہے یعنی جس کا عرض اس کی اونچائی کے برابریا اس سے چھوٹا ہے اس کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ بنی ہوئی ہے وہ اس پر بیٹھنے لگے مگر میں نے ان سے کہا کہ آپ کوچ پر بیٹھ جائیں وہاں انہیں بٹھا کر میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور شیخ صاحب کے والد مرحوم سے جو مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں پوچھا کہ آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا آپ روم جو گئے تھے تو کیا آپ اس قیدی سے بھی ملے تھے۔میں نے کہا۔ہاں ملا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے متعلق بھی اس نے کوئی راز آپ کو بتایا۔میں نے کہا۔ہاں بتایا تھا اس نے مجھے بتایا تھا کہ