رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 311

311 مارے گئے تھے پھر بھی اس نے ان کے ذکر کو چھوڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خیریت معلوم کرنے پر زور دیا تھا اس کا ذکر بھی تقریر میں آگیا۔اس وقت ایک شخص غیر احمدی مولوی اس مکان میں داخل ہوا اور اس نے محسوس کیا کہ میری تقریر کا بہت اثر گھر والوں پر ہے اور اس نے تقریر کو ٹوک کر باتیں شروع کر دیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔گھر کا مالک برا منا کر اسے ٹوکتا ہے۔اس کے بعد ایک شخص داخل ہوا جس نے مصافحہ کر کے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے بابی عربی کی کتاب کہاں سے مل سکتی ہے۔میں نے اسے جواب دیا کہ عربی تو زبان ہے نہ وہ بابی ہے نہ مسلمان نہ عیسائی جو اسے سیکھے وہ اسی کی ہو جائے گی۔اس کے بعد کچھ رؤساء شہر مجھے ملنے کے لئے آئے اور ایک ساتھ کے کمرہ میں جس میں قالینوں کا فرش بچھا ہوا ہے بیٹھ گئے۔ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ روح کے زندہ رکھنے کی کیا صورت ہے۔میں نے انہیں جواب میں کہا کہ زندہ رہنے والی دو چیزیں ہوتی ہیں۔جسم اور روح۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو نہ بول سکتا ہے نہ چل سکتا ہے نہ خود کوئی کام کر سکتا ہے اسے زندہ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا سامان پیدا کیا ہے؟ یہی کہ اس کے اندر رونے کی طاقت پیدا کر دی ہے اس کی ماں ہر وقت تو اس کے پاس نہیں رہتی۔کبھی کھانا پکا رہی ہوتی ہے کبھی کپڑے دھو رہی ہوتی ہے کبھی برتن مانجھ رہی ہوتی ہے کبھی اپنی سہیلیوں سے باتوں میں مشغول ہوتی ہے اور کبھی اپنے خاوند سے چونچلے کر رہی ہوتی ہے (یہ فقرہ مجھے خوب یاد ہے یہ چونچلے کا لفظ اور یہ فقرہ اسی طرح خواب میں میں نے استعمال کیا) اس وقت کبھی بچہ کو کوئی مرض ستاتا ہے کبھی بھوک لگتی ہے کبھی کوئی اور خطرہ پیش آتا ہے تو وہ زور سے چلاتا ہے اور روتا ہے تو اس کی ماں دوڑ کر اس کے پاس آجاتی ہے۔یہ طریقہ خدا تعالیٰ نے جسم کو زندہ رکھنے کے لئے تجویز کیا ہے بعینہ ایسا ہی طریقہ روح کے زندہ رکھنے کے لئے اس نے تجویز کیا ہے جب روح کمزور ہو جب اس پر مردنی طاری ہونے لگے انسان سجدہ میں گر جاتا ہے اور بچہ کی طرح خدا تعالیٰ کو رو رو کر پکارتا ہے تب خدا تعالیٰ بھی اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے اور اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔اس وقت میری تقریر میں جوش پیدا ہو گیا اور آواز بلند ہو گئی اور میں نے انگلی اٹھا کر اور اسے الٹا کر کے قالین پر مارا اور کہا کہ یوں مصلی پر سر رکھ کر جب روح کا بچہ روتا ہے اور یہاں اس کے آنسو گرتے ہیں تو اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے اس