رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 310
310 میرا ڈیرہ ہے اتنے میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب وہاں آئے ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ وہ بیعت میں شامل ہو گئے ہیں۔ان کو میرے والے کمرہ میں ہی دوستوں نے جگہ دی اور اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ یہ تو شدید مخالف ہیں ممکن ہے بری نیت سے آئے ہوں اس خیال پر میں کمرے سے باہر نکلا اور میں نے پوچھا کہ پہرہ دار کہاں گئے ہیں وہ میرے کمرہ میں ہی سوئیں اس وقت پہرہ دار وہاں نہیں مگر میں کچھ آگے گیا تو پہرہ دار مل گئے میں نے ان سے کہا کہ وہ میرے کمرہ میں سوئیں مگر فور آمیرے دل میں خیال آیا کہ جب ایک شخص توبہ کر کے آیا ہے تو مجھے اس کی بات پر یقین کرنا چاہئے اور میں تسلی سے اپنے کمرہ میں داخل ہوا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اس آخری خواب کی رات کو میں نے پنجاب کے سیاسی حالات کے برے پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی صورت پیدا کرے کہ جماعت احمدیہ خصوصاً اور دوسرے مسلمان عموماً ان حالات کے برے اثرات سے محفوظ رہیں پس میں سمجھتا ہوں کہ شیخ عبد الرحمان صاحب کا اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا تائب اور عقیدت سے ملنے آنا دیکھنا نیک انجام پر دلالت کرتا ہے اور انشاء اللہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ مسلمانوں کے لئے کوئی نیک راہ نکل آئے گی۔انشاء اللہ۔الفضل 9۔مارچ 1946ء صفحہ 2 - 383 25 مارچ 1946ء فرمایا : خواب میں دیکھا کہ لکھنو میں ہوں ایک خاتون ہماری رشتہ دار ملنے آئی ہیں ہمارے گھر کی مستورات بھی ہمراہ ہیں میں نے اس خاتون سے جو گو یا لکھنو میں رہتی ہیں پوچھا کہ یہاں کون کون سے مقامات قابل دید ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ برود دیکھنے کی جگہ ہے میں نے کہا بڑودہ تو ایک اور شہر ہے انہوں نے کہا کہ بڑودہ نہیں برود۔پھر میں وہاں سے چلا تو اپنے آپ کو امرتسر میں پایا وہاں ایک غیر احمدی کے گھر میں ہوں۔انہوں نے گھر کی اور شاید محلہ کی مستورات کو بلوایا کہ میں کچھ وعظ انہیں کروں میں نے ان میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کی مستورات کی قربانیوں پر تقریر شروع کی اور احد کے موقع پر جس عورت کے کئی رشتہ دار