رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 307

307 ووٹ اپنے حریف سے زیادہ ہو گئے۔نواب صاحب کے متعلق میں نے یہ تعبیر کی کہ ایک پہلو منذر اور ایک مبشر ہے اور نواب صاحب کو یہ خواب لکھ دی اور لکھا کہ خدا کرے منذر پہلو پہلے پورا ہو جائے اور مبشر بعد میں مگر جیسا کہ خواب میں دکھایا گیا اسی طرح ہوا۔نواب صاحب خطوں میں لکھتے رہے کہ کام ٹھیک ہو رہا ہے مگر آخر نتیجہ امید کے خلاف نکلا اور وہ ناکام رہے۔خواب بعض دفعہ لفظاً پوری ہوتی ہے چنانچہ نواب صاحب نے جو کچھ شروع میں اندازہ کیا تھا اس کے مطابق ان کے منہ سے یہ نکلا کہ الحمد للہ کام ٹھیک ہو رہا ہے مگر جو جسم ان کا چھوٹا کیا گیا تھا اس کے مطابق وہ ناکام رہے۔اس بارہ میں ایک خواب مجھے سال ہوا جبکہ نواب صاحب کا ارادہ کھڑا ہونے کا بھی نہ تھا ، آئی تھی غالبا خواب شائع ہو چکی ہے مگر اس میں بوجہ انذاری پہلو کے نام ظاہر نہ کیا تھا۔الفضل 9۔مارچ 1946ء صفحہ 1 فروری 1946ء 379 فرمایا : میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ ایک انگریز جرنیل میرے پاس آیا ہے اور وہ مجھے سے کہتا ہے کہ آپ کا کیا فتویٰ ہے آیا قتل کے بدلہ میں قتل ہی ہے یا قاتل کو کوئی اور سزا بھی دی جا سکتی ہے یا پھر اس نے کہا ہمارے بعض آدمیوں کو جب سرحد پر مارا جاتا ہے تو ان کی لاشوں کو چونہ میں ڈال کر جلا دیا جاتا ہے یا ان کو مختلف قسم کے عذاب دے کر مارا جاتا ہے۔ایسی صورت میں قاتل کو صرف قتل کی سزا ہی دی جائے یا تعذیب کی سزا بھی اسے ملے گی۔میں نے اسے جواب میں کہا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ۔وَجَزاوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا (الشورى : 41) یعنی بدی کی سزا برے فعل کے مطابق دینی چاہئے بس میرا فتوی یہی ہے کہ قتل کے بدلہ میں قتل اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب۔گو عام حالات میں قتل کے بدلہ میں قتل ہی کیا جائے گا لیکن اگر کسی وقت مصلحت کے ماتحت لوگوں کو تعذیب اور شرارت سے روکنے کے لئے یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ قتل کے بدلہ میں قتل ہو گا اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب تو یہ بالکل جائز ہو گا۔تفسیر کبیر جلد ششم جز و چهارم حصہ دوم صفحه 287