رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 273
273 عبارت کا پہلا اور پچھلا حصہ میں دیکھنے نہیں پایا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا ارم وہ قوم تھی جو خدا تعالیٰ کے ایک نبی کا مقابلہ کر کے تباہ ہوئی تھی میں سمجھتا ہوں اس میں کسی ایسی قوم کی تباہی کی خبر ہے جو دشمنان اسلام میں سے ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے کونسی قوم مراد ہے میں نے گنگا رام ہسپتال کا نظارہ دیکھا ہے ممکن ہے ہندوؤں میں سے بعض لوگ جو اسلام کے مخالف ہیں ان کے متعلق یہ خبر ہو یا کمیونسٹوں کے متعلق جو اسلام کے مخالف ہیں رات میں نے ان کے متعلق دعا بھی کی ہے ممکن ہے ان کے متعلق ہو۔پہلی خواب جس میں میں نے دیکھا کہ بشری بیگم مجھ کو کھیل کھیل میں ام طاہر کے مکان میں لے گئی ہیں اس میں ایک منذر پہلو بھی ہے اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے اور خالد کے نام میں ایک بہت بڑی بشارت ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے خالد کی طرح ہر میدان میں فتح بخشے گا۔الفضل 31 جنوری 1945ء صفحہ 3-4 346 29۔جنوری 1945ء فرمایا : تفسیر شروع کرنے سے پہلے میں آج کا ایک عجیب واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نشان دکھا دیتا ہے میری عادت ہے کہ چونکہ مجھے رات کو دیر تک کام کرنا پڑتا ہے اس لئے صبح کی نماز کے بعد میں تھوڑی دیر کے لئے سو جاتا ہوں آج صبح جب میں سو کر اٹھا تو ایک لڑکا جو ہمارے گھر میں خدمت کرتا ہے ام ناصر کے پاس آیا اور اپنے طریق کے مطابق جیسے جاہل اور ان پڑھ لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہنے لگا۔ایک بڑھی باہر کھڑی ہے چونکہ آج کل بعض ایسے واقعات ظاہر ہوئے ہیں جن کی بناء پر ہمیں گھر میں زیادہ احتیاط کرنی پڑتی ہے اس لئے ام ناصر نے اسے ڈانٹا کہ تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم کسی عورت کو دفتر میں لے آؤ اس کے بعد وہ باہر نکلیں یہ دیکھنے کے لئے کہ کون عورت آئی ہے جب وہ باہر نکلیں تو یکدم مجھ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی اور میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے سرہانے ایک لڑکی کھڑی ہے جو ڈاکٹر غلام علی صاحب مرحوم کی ہے جن کا لڑکا عبدالکریم ہمارے زود نویسوں میں کام سیکھ رہا ہے ممکن ہے اس لڑکی کو میں نے پہلے بھی دیکھا ہوا ہو مگر میں علم کی بناء پر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ڈاکٹر غلام علی صاحب مرحوم کی لڑکی ہے میں اس کی بڑی بہن کو جانتا ہوں