رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 270

270 344 17 جنوری 1945ء فرمایا : 17 ماہ صلح 1324 هش مطابق 17 جنوری 1945ء بروز بدھ میں سورۃ غاشیہ کا درس دینے کے لئے مسجد مبارک میں آیا میں نے درس سورہ غاشیہ کا دینا تھا مگر میں غور سورۃ فجر پر کر رہا تھا اس ذہنی کشمکش میں میں نے عصر کی نماز پڑھانی شروع کی اور میرے دل پر ایک بوجھ تھا لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب میں عصر کی نماز کے آخری سجدہ سے سراٹھا رہا تھا تو ابھی سرزمین سے ایک بالشت بھر اونچا آیا ہو گا کہ ایک آن میں یہ سورۃ مجھے پر حل ہو گئی پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سجدہ کے وقت خصوصا نماز کے آخری سجدہ کی حالت میں اللہ تعالٰی نے بعض آیات کو مجھ پر حل کر دیا مگر اس دفعہ بہت ہی زبر دست تقسیم تھی کیونکہ وہ ایک نہایت مشکل اور نہایت وسیع مضمون پر حاوی تھی۔چنانچہ جب میں نے عصر کی نماز کا سلام پھیرا تو بے تحاشا میری زبان سے الحمد للہ کے الفاظ بلند آواز سے نکل گئے۔تغیر نمبر جلد ششم جز و چهارم نصف اول صفحہ 285 17۔جنوری 1945ء 345 فرمایا : آج میں نے رویا دیکھا اور یہ عجیب رویا تھا جن لوگوں کو رویا ہوتا ہے ان کو تجربہ ہو گا کہ رویا میں باوجود یہ خیال نہ آنے کہ میں رویا دیکھ رہا ہوں اور وہ رویا میں سمجھتا ہے کہ میں جاگ رہا ہوں پھر بھی جب وہ اس پر غور کرتا ہے تو اس کو اس زندگی اور رویا کی زندگی میں فرق ضرور معلوم ہوتا ہے اور رویا میں احساسات کچھ بد - ' ہوئے معلوم ہوتے ہیں لیکن اس رویا کا ایک حصہ ایسا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میں قطعی طور پر جاگ رہا ہوں۔مدت ہوئی 1926 ء میں میرا دفتر مسجد مبارک کے ساتھ کے ایک کمرہ میں ہوا کرتا تھا جسے گول کمرہ کہتے ہیں اور اب سالہا سال سے مجھے وہاں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔رویا میں میں نے دیکھا کہ میں اس کمرہ میں ہوں اور کسی کام کے لئے آیا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم مکان کے نچلے حصہ میں رہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے زمانہ میں نیچے رہا کرے تھے اس وقت ہم بچے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے