رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 263
263 336 19۔دسمبر 1944ء فرمایا : پرسوں میں نے ایک رؤیا دیکھا جب صبح اٹھا تو وہ خواب میں بالکل بھول چکا تھا لیکن جب اٹھ کر میں بیٹھا تو اتفاقا چوہدری مشتاق احمد صاحب بی اے ایل ایل بی واقف زندگی کی بیوی آگئیں ان کو دیکھ کر مجھے وہ خواب یاد آگیا اور میں نے اسے کہا کہ تم نے اپنی شکل دکھا کر وہ خواب یاد کرا دی۔وہ رویا یہ تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ گیا ہوں ایک تالاب یا جو ہر ہے جس میں میر محمد اسحاق صاحب مرحوم اور ان کے ساتھ چند اور آدمی پانی میں کھڑے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نہا رہے ہیں۔میر صاحب کو میں نے دیکھا کہ جو ہر کاپانی ان کے کمر تک ہے پہلے جس جگہ میں گیا ہوں وہ ایک ٹیلہ ہے جہاں سے جو ہر کا پانی نظر نہیں آتا۔جب وہاں سے دائیں یا بائیں طرف ڈھلوان کی طرف گیا ہوں تو وہاں سے وہ پانی نظر آتا ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سالڑ کا پانی کے کنارے کھڑا ہے وہ کہتا ہے میں بھی غوطہ لگاؤں۔اس جو ہڑ کا پانی گو میر صاحب کی کمر کے برابر نظر آتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پانی گہرا ہے یہ لڑکا کس طرح غوطہ لگائے گا کہیں ڈوب نہ جائے لیکن اس لڑکے نے پانی میں غوطہ لگا دیا دیر تک اس کا انتظار کیا مگروہ نکلا نہیں جب وہ دیر تک نہ نکلا تو میں نے دوسرے آدمیوں سے کہا کہ اس کا پتہ لگاؤ کہیں ڈوب نہ گیا ہو مگر وہ کھڑے رہے اور کہنے لگے نہیں جی ڈوبتا نہیں نکل آئے گا۔اتنے میں دور ایک سیاہ سی چیز نظر آئی جسے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ وہ دیکھئے اس نے سر نکالا ہے مگر جب وہ چیز ساری نمایاں ہوئی تو معلوم ہوا کہ بڑا قا ز ہے۔میں نے کہا یہ لڑکا تو نہین یہ تو قاز ہے پھر تھوڑی دیر کے بعد اسی قسم کی ایک اور چیز نظر آئی جسے دیکھ کر ان آدمیوں نے پھر کہا کہ دیکھئے وہ نکل آیا مگر معلوم ہوا کہ وہ بھی لڑکا نہیں۔ایک بڑا سا قاز ہی ہے جو کہ بطخ نے بھی بڑا ہے اور میں کہتا ہوں یہ تو وہ نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد پھر وہ لڑکا نکلا اور معلوم ہوا کہ وہ ڈوبا نہیں تھا بلکہ اس نے غوطہ لگایا ہوا تھا جب میں اس ٹیلہ کی ڈھلوان کی طرف سے جوہڑ کے کنارے کی طرف بڑھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ عورتیں بھی بیٹھی ہیں جنہوں نے برقعے پہنے ہوئے ہیں مگر سامنے کی طرف سے برقعے اٹھائے ہوئے ہیں جن کو میں دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ تو بڑی بے احتیاطی ہے ان پر تو لوگوں کی نظر پڑتی ہو گی ان عورتوں میں میں نے دیکھا کہ چوہدری مشتاق احمد صاحب کی بیوی بھی تھی۔صبح جب میں اٹھا تو یہ خواب مجھے بھول گیا تھا پھر ان کی بیوی کو دیکھ کر مجھے یاد آگیا جب میں