رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 259

259 331 30 اکتوبر 1944ء فرمایا : آج صبح کے وقت میں نے نماز فجر سے پہلے ایک رویا دیکھی جو آج پوری ہو گئی ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بینچ پر بیٹھا ہوں وہ اس طرح کی چھوٹی بیچ نہیں جس پر اس وقت بٹھا ہوا ہوں بلکہ وہ بیچ لمبی ہے جس طرح سکولوں میں لڑکوں کے بیٹھنے کے لئے ہوتی ہے مجھے قضائے حاجت ہوئی اور میں نے وہیں بینچ پر بیٹھے ہی کپڑا ایک طرف کر کے قضائے حاجت کی اور جس طرح آدمی زمین پر قضائے حاجت کے لئے بیٹھتا ہے تو ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ ہو جاتا ہے تاکہ پاخانہ اونچا ہو کر صفائی کرتے وقت اس کے ہاتھ کو نہ لگ جائے اسی طرح میں نے بھی پہلے ایک جگہ اور پھر وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ دو جگہ قضائے حاجت کی۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا۔یہاں میرا بچہ رہ گیا ہے میں اس کی تلاش کرنے آیا ہوں میں ایک طرف ہٹ گیا کہ وہ اپنا بچہ دیکھ لے۔خواب میں مجھے اس بات پر کوئی حیرانگی نہیں ہوتی کہ یہاں اس کا بچہ کس طرح رہ گیا اس شخص نے بیج کے اوپر دیکھنا شروع کیا مگر بچہ وغیرہ تو وہاں کوئی نہیں تھا دو جگہ پاخانہ پڑا ہوا تھا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ میرے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب آئے ہیں ان کے ساتھ ایک اور ڈاکٹر ہیں ان کو بھی میں خواب میں اپنا ماموں سمجھتا ہوں میرے دوسرے ماموں میر محمد اسحاق صاحب مرحوم ڈاکٹر صاحب سے چھوٹے تھے میں خواب میں جن کو میں دوسرا ماموں سمجھتا ہوں ان کو میں ڈاکٹر صاحب سے بڑی عمر کا سمجھتا ہوں۔دونوں آکر بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ایک لاش ہے جو چھوٹے بچہ کی ہے انہوں نے اس لاش کا پیٹ چاک کرنا شروع کیا خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ اپریشن کر رہے ہیں اور حیران ہوتا ہوں کہ مردہ کا اپریشن کرنے کے کیا معنے۔ان دونوں ماموؤں میں میں نہیں کہہ سکتا کہ کون اصلی ہے اور کون تمثیلی۔اپریشن کرتے وقت ان میں سے ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ فلاں اپریشن کرتے وقت ان کا ہاتھ کانپ گیا تھا اور وہ آگے سے جواب دیتے ہیں۔نہیں۔وہ تو فلاں وجہ تھی۔انہوں نے لاش کا اپریشن کیا اور ٹانگے لگا کر بند کر دیا۔اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں سوچتا ہوں کہ اس کا کیا مطلب ہے ایک طرف پاخانہ