رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 257
257 کی ماؤں کو سمجھاؤں۔اندر آکر میں نے دیکھا کہ میری ایک بیوی کھڑی ہے۔ان سے میں نے غصہ سے کہا کہ ان بچوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والے صحن میں آنے سے روکو آپ بیمار ہیں ان کے شور سے آپ کو تکلیف ہوگی اگر پھر میں نے کسی بچہ کو وہاں دیکھا تو میں اس کی ہڈیاں تو ڑدوں گا پھر میں اس مکان میں جو نہایت وسیع معلوم ہوتا ہے آگے چلتا گیا اور میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ جماعت نے اس موقع پر احتیاط سے کام نہیں لیا اور پہرہ کا انتظام نہیں کیا مگر جب میں جاتے جاتے دوسری طرف کے دروازے کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کے دائیں بائیں احمدی پہرہ دے رہے ہیں وہ قادیان کی جماعت کے معلوم ہوتے ہیں اس پر مجھے خوشی ہوئی جب میں پھر اندر کی طرف لوٹا تو ام متین نے کہا کہ پاخانہ آیا ہے پردہ کروا دیں میں نے کہا یہ کونسا پر وہ کرانے کا وقت ہے ایسے نازک وقت میں اس قدر احتیاط نہیں کیا کرتے ایک طرف اندھیرے میں بیٹھ کر قضائے حاجت کر لو۔یہ رویا میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو سنایا تو انہوں نے توجہ دلائی کہ اوصاف علی اور حیدر آباد بتاتے ہیں کہ دونوں رویا ایک ہی واقعہ کی نسبت ہیں کیونکہ حیدر بھی حضرت علی کی صفت ہے اور پہلی رؤیا میں آپ نے اپنے آپ کو بیمار دیکھا ہے اور دوسری میں حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ والسلام کو۔ان کی یہ رائے درست معلوم ہوتی ہے۔الفضل 5۔نومبر 1944ء صفحہ 3-2 اکتوبر 1944ء 328 فرمایا : ڈلہوزی سے آنے سے معا پہلے یا معابعد میں نے رویا میں دیکھا کہ ڈلہوزی سے قادیان آرہا ہوں راستہ میں ایک پڑاؤ پر ام طاہر آتی ہیں ان کے چہرہ پر رونق ہے اور ایک عورت ان کی کمر دبا رہی ہے میں نے کہا۔اب تم اچھی ہو انہوں نے کہا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہوں میں ان سے خوش ہو کر باتیں کرتا رہا اتنے میں دیکھا کہ ایک لڑکی ہماری کسی لڑکی کو شدید وق کرتی ہے اس پر میں اسے پکڑ کر دور تک گھسیٹتا ہوالے گیا ہوں اور اسے وہاں چھوڑ کر واپس آگیا ہوں اس کا باپ بھی وہاں موجود ہے مگر اس ادب سے کہ میں اسے چھوڑ کر آیا ہوں اس کا باپ اسے لایا نہیں اتنے میں کسی بچہ نے کہا کہ وہ رو رہی ہے۔میں نے اس کے باپ سے کہا۔