رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 254
254 روزویلٹ کی پارٹی کا خیال کہ جرمنی کو بعد از جنگ بھی دبائے رکھنا چاہئے غالب ہے لیکن آخر امریکن لوگ معقولیت کی طرف آجائیں گے اور مسٹر ڈیوی کی پارٹی کی رائے غالب آجائے گی یہ میرا خیال اس وجہ سے ہے کہ ان دنوں میری طبیعت پر مذکورہ بالا بحث کا خاص اثر تھا ورنہ ممکن ہے کہ خواب میں جو کچھ بتایا گیا ہو وہی ظاہر میں مراد ہو۔الفضل 5۔نومبر 1944ء صفحہ 2 -1۔نیز دیکھیں۔الفضل 7۔مئی 1945ء صفحہ 2 اکتوبر 1944ء 327 فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار ہیں اور ایک ایسی جگہ ہیں جہاں دائیں بائیں تو عمارتیں ہیں مگر درمیان میں پچاس ساٹھ گز کھلی جگہ ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی چارپائی بچھی ہے اس بیماری کے وقت میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں کہ کسی طرف سے دشمن حملہ نہ کرے۔یہ دیکھتا ہو اپہلے میں سرہانے کی طرف گیا اس طرف میں نے دیکھا کہ دلدلی سا علاقہ ہے جسے پنجابی میں پچھنب کہتے ہیں اس میں گھاس دو دو تین تین فٹ اونچی اور گھنی اگی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ادھر جرمن فوجیں ہیں اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے اس طرف کوئی گولی نہ چلا دے اس پر میں ادھر جا کر کہتا ہوں (میں نے جو فقرہ کہا وہ تو مجھے یاد نہیں مگر اس کا مفہوم یہ تھا) کہ ادھر ہم لوگ ہیں تم سے ہمیں کوئی خطرہ تو نہیں ہے اس کے جواب میں ایک افسر نے کہا ہم نے ادھر گولی نہیں چلائی اور ہم سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔پھر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پائنتی کی طرف گیا ادھر مجھے آدمی تو نظر نہیں آتے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ادھر آریہ ہیں ان سے بات کرنا بھی مجھے یاد نہیں مگران کی طرف سے جو جواب دیا گیا وہ یاد ہے انہوں نے کہا لیکھرام کا قتل ہمیں بھولا تو نہیں آخر ہم نے اس کا بدلہ لیتا ہے “ اس پر میں گھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس واپس آیا اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں یا بیماری کی وجہ سے غنودگی میں ہیں میں چاہتا ہوں کہ جلد سے جلد یہ بات آپ کو بتاؤں مگر جگانا بھی نہیں چاہتا کہ ممکن ہے آپ سوئے ہوئے ہوں اور آپ کے