رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 223

223 291 8۔مئی 1944ء فرمایا : اترسوں جس دن ہم ڈلہوزی پہنچے تو مجھے ایک الہام ہو ا جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں وہ بہت ہی اہم ہے اور اپنی طرز میں بھی نرالا ہے اس الہام کے الفاظ قریباً یہ تھے۔قریبا کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ بعض الفاظ کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ ان کی قراءت اس رنگ میں ہے یا اس رنگ میں۔بہر حال اس الہام کا اکثر حصہ اسی رنگ میں یاد ہے کہ إِنَّمَا أُنْزِلَتِ السُّورَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ اور فِتْنَةِ الدَّجَّال کی دوسری قرارت فِتْنَةِ الشَّيْطَانِ بھی آتی ہے یعنی اس کی ایک قرامت تو یہ ہے کہ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ اور دوسری قراءت یہ ہے کہ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الشَّيْطَانِ اس الہام کے ساتھ ہی القاء ہوا کہ اِنَّمَا اُنْزِلَ السُّورَةُ الْفَاتِحَةُ سے مراد سورۃ فاتحہ کا صرف وہ نزول نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا بلکہ اس میں سورہ فاتحہ کا وہ نزول بھی شامل ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یا ان کے ذریعہ بعد میں بعض دوسرے افراد پر ہوا جیسے مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائی گئی ہے پس مجھے القاء یہ ہوا کہ سورہ فاتحہ کے معارف کا یہ نزول بھی اسی میں شامل ہے مگر یہ حصہ الہام کا نہیں بلکہ الہام کے ساتھ ہی مجھے القا ہوا اس کا یہ حصہ ہے۔اسی طرح القاء کے طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ اس الہام کی دو قراتیں ہیں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِنَّمَا اُنْزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِنَّمَا اُنْزِلَتِ السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِيرِ فِتْنَةِ الشَّيْطَانِ جاگنے پر مجھے خیال آیا کہ سورۃ فاتحہ کا وہ نزول جو شیطانی فتنہ کے استیصال کے لئے ہوا اس سے مراد وہ سورہ فاتحہ ہے جو قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے۔قرآن کریم میں جو سورۃ فاتحہ نازل ہوئی ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہے اور وہ تمام حملے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت سے لے کر اب تک ہوئے یا قیامت تک ہوتے چلے جائیں گے وہ شیطانی فتنہ سے تعلق رکھتے ہیں پس قرآن کریم میں جو سور ہ نازل ہوئی ہے وہ حاوی ہے ان تمام حملوں کے دفاع پر جو قیامت تک اسلام پر ہوتے رہیں گے لیکن سورۃ فاتحہ کا نزول جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوا یا آپ کے بعد مجھے اس کا