رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 222
222 290 4۔مئی 1944ء فرمایا : کل میں نے ایک چھوٹا سا نظارہ دیکھا جس کا کچھ حصہ یاد رہا اور کچھ حصہ بھول گیا یا شاید اتنا ہی نظارہ تھا مجھے رویا میں آدمیوں کی قطار نظر آئی جیسے فوج ہوتی ہے مجھے وہ ساری قطار نظر نہیں آتی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں اور میں اگلی صف میں ایک سرے پر ہوں مجھے وہاں سے ایک دو صفیں نظر آتی ہیں ایک ایک صف میں پندرہ بیس آدمی ہیں اور وہ دس بارہ فٹ لمبی چلی جاتی ہے مگر سپاہیوں کی طرح نہیں کہ فاصلہ فاصلہ پر قطاریں ہوں بلکہ ایک قطار کے ساتھ دوسری اور دوسری کے ساتھ تیسری لگی ہوئی ہے اور میں پہلی صف کے سرے پر ایک طرف کھڑا ہوں جیسے افسر کھڑے ہوتے ہیں اس وقت کوئی شخص بعض الفاظ اپنی زبان سے نکالتا ہے مجھے اس کے سارے الفاظ تو یاد نہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مارچ کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے یہ فوج ہے جو آگے بڑھ کر حملہ کرنے والی ہے بہر حال مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہا ہے یہ مارچ ہے حملہ کے لئے بھی اور فتح کے لئے بھی یعنی یہ لوگ جو مارچ کریں گے اس میں دشمن پر حملہ بھی ہو جائے گا اور فتح بھی ان کو حاصل ہو جائے گی مجھے اس کا اصل فقرہ بھول گیا مگر مفہوم یہی تھا کہ یہ فوج اب مارچ کرے گی اور اس کے دو کام ہوں گے اول دشمن پر حملہ کرے گی دوم حملہ کے ساتھ ہی اسے فتح حاصل ہو جائے گی۔فرمایا : وہ لوگ جو قطاروں میں کھڑے ہیں وہ کسی دنیوی فوج سے تعلق رکھنے والے معلوم نہیں ہوتے بلکہ اپنی جماعت کے ہی افراد ہیں جن کو میں فوج سمجھتا ہوں مگر ان سب کے کپڑے بالکل صاف اور دھلے ہوئے ہیں اس سے مجھے خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں زمینداروں میں یہ روح پیدا کرنی چاہئے کہ ان کے کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے ہونے چاہئیں۔کیونکہ رویا میں میں نے جتنے آدمی دیکھے ان کے کپڑے کو سادہ تھے مگر سب کے سب دھلے ہوئے اور صاف ستھرے تھے ظاہری نظافت بھی باطنی پاکیزگی کے لئے ایک ضروری چیز ہوا کرتی ہے۔الفضل 18۔مئی 21944