رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 214

214 تیاری نہیں کی جو اسے کرنی چاہئے تھی اور ابھی اس نے وہ مقام حاصل نہیں کیا جو اس عظیم الشان یوم جزاء کے انعامات کا اسے مستحق بنانے والا ہو اس کے لئے ابھی بہت بڑا اور لمبا راستہ پڑا ہے اسے طے کرنا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” روز جزاء قریب ہے "۔جو معنے اس وقت میں نے سمجھے وہ یہی تھے کہ " روز جزاء قریب ہے " کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم پر اسلام خدا تعالیٰ اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جو وعدے فرمائے ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔آسمان پر فرشتوں کی فوجیں اس دن کو لانے کے لئے تیار کھڑی ہیں مگر جو کوشش تم کر رہے ہو وہ بہت ہی حقیر اور ادنی اور معمولی ہے جب ہم نے اپنے فضل کا دروازہ کھول دیا ، جب آسمان سے فرشتوں کی فوجیں زمین میں تغیر پیدا کرنے کے لئے نازل ہو گئیں ، جب کفر کی بربادی کا وقت آپہنچا جب اسلام کے غلبہ کی گھڑی آگئی تو اس وقت اگر تم پوری طرح تیار نہیں ہو گے تم نے اپنے اندر کامل تغیر پیدا نہیں کیا ہو گا، تم نے اپنی اصلاح کی طرف پوری توجہ نہیں کی ہوگی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تم اس دن سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاؤ گے اور اسلام کی دائمی ترقی میں روک بن جاؤ گے۔الفضل 27 اپریل 1944 ء صفحہ 6-7 نیز دیکھیں الفضل 14 مارچ 1946ء صفحہ 7 - 3 فروری 1947ء صفحہ 2۔11 جولائی 1960ء صفحہ 3 283 فرمودہ 26۔اپریل 1944ء فرمایا : میں نے زیادہ تر خداتعالی کو نور کی شکل میں دیکھا ہے کبھی اللہ تعالیٰ کی تجلی بجلی کی تیز روشنی کی طرح مجھے دکھائی دی ہے۔مگر اس میں اسی قسم کی تیزی اور حدت نہیں ہوتی جیسے بجلی کی سی روشنی میں ہوتی ہے بلکہ وہ روشنی اپنے اندر ایک سکون اور راحت رکھتی ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کو میں نے ایک نور کے ستون کی شکل میں دیکھا ہے جسے دیکھ کر آنکھیں راحت پاتی تھیں بہر حال میں نے اللہ تعالیٰ کو ان صورتوں میں زیادہ دیکھا ہے بہ نسبت انسانی شکلوں میں دیکھنے کے۔الفضل 31۔اکتوبر 1944 ء صفحہ 2 284 26۔اپریل 1944ء فرمایا : رات کو ایک منذر کلام مجھے معلوم ہوا ہے مجھے اس شخص کا پتہ ہے مگر میں اس کا نام