رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 213

213 282 ابریل 1944ء فرمایا : میں نے کشفی حالت میں یہ نظارہ دیکھا کہ گویا آسمان کے فرشتوں کی آوازیں سن رہا ہوں مجھے بہت دفعہ کشفی حالت میں ملاء اعلیٰ کی آوازیں سننے کا موقع ملا ہے کل بھی ایسا ہی ہوا اور میں نے آسمان کے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر پڑھ رہے ہیں مگر کچھ تغیر کے ساتھ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے یا رو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا : یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا مگر میں خواب میں فرشتوں کے پڑھنے کی جو آواز سنتا ہوں اس میں پہلے دو لفظ بدلے ہوئے ہیں یعنی فرشتے بجائے یہ کہنے کے کہ "یا رو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا۔یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا یہ کہتے ہیں کہ ”سوچو جو شخص آنے کو تھا وہ تو آچکا۔یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تبدیلی اس زمانہ کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر کہا اس وقت ہمارے سلسلہ کا ابتدائی زمانہ تھا اور لوگوں کو اس رنگ میں اپیل کرنا مناسب تھا مگر اب وہ زمانہ گزر چکا اور اب سلسلہ کی ترقی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کو سوچنا چاہئے اور اس بارہ میں انہیں غور و فکر کرنا چاہئے کہ جس شخص نے آنا تھا وہ تو آچکا ہے۔چنانچہ میں نے سنا کہ فرشتے کہہ رہے ہیں سوچو جو شخص آنے کو تھاوہ تو آچکا۔یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا۔فرشتے اس شعر کو بہت بلند آواز سے اور بڑی رسیلی اور سریلی آواز میں پڑھ رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں اس کے بعد مجھ پر ایک الہام نازل ہو ا جس نے میرے ہوش اڑا دئیے وہ الہام یہ تھا جو خود ایک مصرعے کی شکل میں ہے کہ Q روز جزاء قریب ہے اور راہ بعید ہے بڑے زور سے یہ الہام مجھے پر نازل ہوا اور بار بار اس کو دہرایا گیا اس الہام کے اور معنے بھی ہو سکتے ہیں مگر میں نے اس وقت جو اس الہام کے معنے سمجھے وہ یہ ہیں کہ وہ تغیرات عظیمہ جس کا پیشگوئیوں میں ذکر تھا اور وہ اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے ایام جن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی بالکل قریب آپہنچے ہیں روز جزاء اب سر پر کھڑا ہے قدرت کا زبردست ہاتھ اس دن کو اب قریب تر لا رہا ہے مگر راہ بعید ہے " جماعت نے اس آنے والے دن کے لئے ابھی وہ "