رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 165

165 صدر دین صاحب کو قادیان بھیجا جائے میں نے کہا پھر تو یہ خواب اپنے ظاہری رنگ میں ہی پوری ہو جائے گی اور وہ اگر آئے تو یقینا ہمارے مقابلہ میں گڑیا بن کر رہ جائیں گے ایران کے ساتھی یہ کہہ کر چلے جائیں گے کہ جب یہ کوئی بات مانتے ہی نہیں تو نہ سہی۔ہم جاتے ہیں۔یہ رویا 9۔اپریل بدھ کے روز میں نے دیکھا تھا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1941ء صفحہ 132 - 134۔مزید دیکھیں۔الفضل 11 جون 1941 ء صفحہ 2 و 12۔جون 1941 ء صفحہ 65 235 ایریل 1941ء فرمایا : چند دن کی بات ہے یہاں ایک مقامی افسر نے ایسی کارروائی کرنی شروع کی جس سے مجھے یہ شبہ پیدا ہوا کہ ہماری تبلیغ کو روک دیا جائے گا۔میں نے اس کے متعلق دعا کرنی شروع کر دی اور میں نے کہا کہ یا اللہ تیرے دین کی تبلیغ کو تو کوئی روک نہیں سکتا مگر یہ افسر اس بیوقوفی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرے گا اس لئے تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما کہ تبلیغ میں کوئی روک پیدا نہ ہو۔میں نے اس دعا کے بعد رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور وہی افسر میرے سامنے آیا ہے پہلے تو وہ اور افسروں سے کچھ مشورہ کرتا رہا پھر ایک خالی پیج پر بیٹھ گیا۔میں نے دیکھا کہ اس کے سر پر ایک لمبا سا کلاہ ہے اور چھوٹی سی پگڑی اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ملتا ہے اتنے میں پیچھے سے بعض اور دوست آئے اور وہ ان سے باتیں کرنے لگ گیا باتیں کرتے کرتے یکدم وہ اٹھا اور میرے پہلو میں جھکا۔میں نے دیکھا کہ اس کا رنگ فق ہو تا چلا جا رہا ہے میں حیران ہوں کہ اسے کیا ہو گیا ہے اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہاں ایک سوراخ ہے جس میں سے ایک سانپ نے سر نکالا ہوا ہے اور غالبا اس سانپ نے اسے کاٹ لیا ہے میں نے کہا کہ جلدی سے اس سانپ کا زہر نکالو مگر وہ باکل ہمت ہار چکا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مرنے لگا ہے مگر میں اس کے لئے دوائی تلاش کرنے لگ گیا اور ابھی دوائی تلاش ہی کر رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ادھر یہ رویا میں نے دیکھا اور ادھر چند دنوں کے بعد ہی مجھے معلوم ہوا کہ اس افسر کے رویہ میں فرق پیدا ہو گیا ہے اور یا تو وہ ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے ماتحت کارروائی کرنے لگا تھا اور یا اس نے اس ارادہ کو بالکل ترک کر دیا۔اس رویا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ باز نہ آیا تو