رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 121
121 آنکھ کھلتی ہے میں معلوم کرتا ہوں کہ میں نہایت سوز و گداز سے دعا کر رہا تھا گویا وہ الہامی ہی ہوتی ہے اور یہ حالت خواب میں بھی جاری رہتی ہے اسی طرح آج میں نے دیکھا ساری رات بار بار میری آنکھ کھلتی رہی اور جب بھی میں جاگا میں نے دیکھا کہ احراری فتنہ کے متعلق اللہ تعالٰی سے دعائیں کر رہا ہوں۔الفضل 20 - اگست 1935ء صفحہ 10 199 19۔اگست 1935ء فرمایا : گذشتہ اتوار کو ہی میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک عربی کا شعر پڑھ رہا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ گویا مجھ پر الہام ہوا ہے اور یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہی شعر یا ایسا ہی کوئی دوسرا شعر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا تھا جب میری آنکھ کھلی تو وہ شعر میری زبان پر تھا مگر افسوس کہ ایک مصرعہ یا د رہ گیا دو سرا بھول گیا وہ مصرعہ یہ ہے۔تَأْتِي إِلَيْكَ الرُّوحُ كَالدُّ خَانِ یعنی انسان کی روح دھوئیں کی طرح تیری طرف آتی ہے۔دوسرا مصرعہ مجھے یاد نہیں رہا لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ تو جب اسے چھو دیتا ہے تو وہ سورج کی طرح یا سورج سے بھی روشن ہو جاتی ہے۔الفضل 27۔اگست 1935 ء صفحہ 6 - 7 1936 1935 فرمایا 200 دس بارہ سال ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں پشاور آیا ہوں اور جس ریل میں سفر کر رہا ہوں وہ شہر کی ایک گلی میں سے گزر رہی ہے یعنی دونوں طرف آبادی ہے چنانچہ آج جس وقت ریل پشاور چھاؤنی اسٹیشن پر پہنچی تو ریل کے دونوں طرف آبادی دیکھ کر مجھے اپنا رویا یاد آگیا۔رویا میں میں نے دیکھا کہ جب ریل پشاور آکر ٹھہری تو مولوی غلام حسن خاں صاحب جو اس وقت زندہ تھے استقبال کے لئے اسٹیشن پر کھڑے تھے اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب ہیں جو غالبا خاں بہادر دلاور خان صاحب ہیں۔رؤیا کے بعد کئی دفعہ ارادہ کیا کہ اس رؤیا کو پورا کرنے کے لئے پشاور آؤں لیکن عرصہ تک یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا تو آج میرے یہاں آنے سے یہ رویا پورا ہو گیا۔رویا میں جو یہ دیکھا تھا کہ مولوی غلام حسن صاحب استقبال کے لئے اسٹیشن