رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 120

120 197 2 جولائی 1935ء فرمایا : ابھی تین دن کی بات ہے میں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹا تو مجھے الہام ہو ا جس کے یہ الفاظ تھے ”مبارک ہے وہ خدا جس نے مجھے کو ثر دکھایا اور اس طرح جنت کے بعض اور مقام بھی “۔میں اس وقت دل میں کہتا ہوں کہ مبارک کا لفظ انسانوں کے متعلق آتا ہے مگر اس وقت دل میں آیا کہ اس جگہ مبارک تبارک کی جگہ پر استعمال ہوا ہے۔اس الہام کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے میری روح کو لے جا کر کوثر اور بعض دوسرے اعلیٰ مقامات جنت دکھائے ہیں اور واپسی پر اس لطف و اکرام پر حیران ہو کر میں اوپر کے الفاظ کہتا ہوں۔غرض رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے کوثر کے مقام تک پہنچایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر ہماری نصرت و تائید کے سامان ہو رہے ہیں۔کو ثر تو مرنے کے بعد ملتا ہے اور اگر دوسرے کوائف ساتھ نہ ہوتے تو میں اس کی تعبیر یہ کرتا کہ یہ میرے نیک انجام کی طرف اشارہ ہے لیکن رویا کے باقی حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کی امید دلاتے ہیں اور جماعت کی ترقیات کی اس میں خبر دی گئی ہے۔اس رویا میں کو ثر کا نظارہ اس لئے بھی دکھایا گیا ہے کہ دشمن کہتا ہے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں چونکہ کوثر دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے اور کو ترکی نعمتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہی مل سکتی ہیں اس لئے کو شر کے انعام ملنے کا نظارہ دکھا کر بتایا گیا ہے کہ نادان دشمن لاکھ جھک مارے کو ٹر کا دیکھنا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اس کے زندگی بخش جام کا پینا تو ہم نے تیرے لئے مقدر کر دیا ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو ہی سچا متبع ہے۔پھر وہ چیز جو بعد میں مجھ کو دی گئی وہ در حقیقت جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے تم کو بھی دی گئی ہے۔الفضل 9۔جولائی 1935ء صفحہ 8 16۔اگست 1935ء 198 فرمایا : میرا ہمیشہ سے یہ تجربہ ہے کہ جب کبھی رات کو سوتے وقت میری زبان پر الہامی طور پر دعائیں جاری ہوں اس کے بعد خدا تعالیٰ کا کوئی فضل نازل ہوتا ہے۔ایسے وقت میں میں دیکھتا ہوں کہ رات کو گو میں سویا ہوا ہو تا ہوں مگر میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہا ہو تا ہوں اور جب