رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 117
117 بات کو تو سچا سمجھتا ہے مگر اسے مانتا نہیں۔الفضل 24 اپریل 1935ء صفحہ 8۔نیز دیکھیں الفضل 10۔مئی 41944 اپریل 1935ء 194 فرمایا : چند روز ہوئے میں نے دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور اس کی بیوی اور ملازم بھی ساتھ ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی آسودہ حال آدمی ہے اور بعض مسائل پوچھنا اور اس کے بعد اطمینان حاصل کر کے سلسلہ میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ کچھ باتیں مجھ سے یا سلسلہ کے علماء کے ساتھ کر چکا ہے۔میں نے اسے بڑے کمرہ میں جہاں میں ملاقاتیں کرتا ہوں بٹھایا اور جیسا کہ میرا قاعدہ ہے کہ سوائے اس وقت کے کہ ملنے والے پتلون وغیرہ پہنے ہوں فرش پر ہی بیٹھتا ہوں اس وقت بھی فرش پر ہی بیٹھا ہوں۔ان کے دو ملازم آئے اور کوچ پر بیٹھ گئے اس کے بعد ان کی بیوی بھی آگئی جو مصری یا شامی آزاد تعلیم یافتہ عورتوں کی طرح سیاہ رنگ کا برقعہ اوڑھے ہے جس میں منہ ، ناک ، آنکھیں نگی ہیں۔سر بال اور گردن وغیرہ ڈھکی ہوئی ہیں پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرد پورے طور پر سمجھ چکا ہے اور عورت سمجھنا چاہتی ہے اور آدمی کہتا ہے کہ میری بیوی بھی سوال کرنا چاہتی ہے اور اس کی خواہ ہے کہ اسے روحانی ترقی کے گر بتائے جائیں۔تصوف کی طرف اس کا میلان معلوم ہوتا ہے اور صوفیاء کا جیسا قاعدہ ہے کہ وہ بعض اصطلاحات بولتے ہیں مثلاً مومن کو پرندہ کہتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت نے بھی کوئی ایسی اصطلاحیں بنائی ہیں۔اس کا خاوند میرے کان میں کہتا ہے کہ اس کی خواہش ہے میں روحانی پٹواری بن جاؤں۔چونکہ میں سمجھ گیا ہوں کہ اس کا میلان تصوف کی طرف ہے اس لئے اس لفظ کے سننے سے مجھے تعجب نہیں ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پٹواری زمینوں کی پیمائش کرتا ہے لوگوں کے حقوق کی نگرانی کرتا ہے، مالیہ مقرر کرتا ہے اسی طرح اس کی خواہش ہے کہ میں ایسے مقام پر پہنچ جاؤں کہ دوسروں کی نگران ہو جاؤں اور میں یہی مفہوم سمجھتا ہوں۔عورت چونکہ کچھ فاصلہ پر ہے وہ بھی ذرا اونچی آواز سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں میں پٹواری بن جاؤں۔اس پر اس کا خاوند جھک کر کہتا ہے کہ پیچھے جیون خاں بیٹھا ہے یہ لفظ نہ بولو۔گویا ان دو نوکروں میں سے ایک جو میری پشت کی طرف بیٹھا ہے جیون خان