رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 109

109 183 1934 فرمایا : 1934 ء میں احرار کا لشکر ہمارے مقابل میں اٹھا اور اس نے ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ہمارے خلاف ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا چھوٹے بھی اور بڑے بھی عالم بھی اور جاہل بھی اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہمیں مٹادیں گورنمنٹ کے کل پرزے بھی احرار کی تائید میں نظر آنے لگے حکام ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور کہتے شاباش تم بڑا اچھا کام کر رہے ہو۔ان نازک اور تاریک ترین ایام میں جبکہ بعض احمدی بھی کہہ رہے تھے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔خدا نے میری زبان پر جاری کیا کہ میں زمین احرار کے پاؤں سے نکلتی دیکھتا ہوں۔چنانچہ تھوڑے ہی دن گزرے کہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ زمین احرار کے پاؤں سے نکل گئی یہاں تک کہ غیر احمدی اخبارات نے بھی اس صداقت کو تسلیم کیا۔انہوں نے بھی انہی الفاظ سے احرار کی عبرت ناک ناکامی کا ذکر کیا کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکل گئی۔رپورٹ مجلس مشاوت 1943ء صفحہ 54۔نیز دیکھیں۔الفضل 30۔مئی 1935ء صفحہ 3 اکتوبر 1934ء 184 فرمایا : جب میں نے اس ( تحریک جدید - ناقل) کے متعلق پہلا خطبہ پڑھا تو اس میں تحریک جدید کے متعلق جس قدر باتیں میں نے بیان کیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء میرے دل میں ڈالی گئی تھیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا چلا گیا میں ان باتوں کو بیان کرتا چلا گیا۔نظام نو ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1942ء) صفحه 3 (شائع کردہ نظارت اصلاح دار شاد) 185 9 نومبر 1934ء فرمایا : آج میں نے دیکھا کہ ایک دعوت کا سامان ہو رہا ہے اس کے لئے برتن صاف کر کے میری ایک بیوی ترتیب سے رکھوا رہی ہے۔ان برتنوں میں میں نے نہایت نفیس اور خوبصورت رنگوں والا شیشہ کا سامان دیکھا۔کچھ پیالے ہیں کچھ صراحیاں اور کچھ گلاس سب نہایت ہی اعلیٰ قسم کے ہیں ایسے کہ ان کی طرح کا اور ان کی قیمت کا کوئی سامان ہمارے ہاں موجود