رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 104
104 175 مارچ 1933ء فرمایا : میں نے ایک رویا دیکھا ہے جو ایک باپ اور بیٹے کے متعلق ہے وہ دونوں ہیں۔میں ان کا نام نہیں لوں گا میں نے دیکھا لڑکے نے اپنے باپ کو لکھا ہے میں دس ہزار روپیہ بھیجنا چاہتا ہوں ان میں سے چھ ہزار تو آپ کے قدموں میں اور باقی چار ہزار کے متعلق اجازت دیں تو قادیان میں مکان بنوالوں۔میں یہ خط پڑھ کر بہت خوش ہوا کہ کتنے ادب سے اپنے باپ کو لکھا ہے اور لڑکا کیسا موذب ہے اس خط کو پڑھنے سے مجھے ایسا لطف آیا کہ جب آنکھ کھلی تب بھی سرور تھا۔باپ ہندوستان میں ہی ہے اور بیٹا ہندوستان سے باہر ہے اس کے الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ روپیہ اس کی اپنی کمائی کا ہے جس کے متعلق باپ سے اجازت حاصل کر رہا ہے۔الفضل 28۔مارچ 176 5+1933 مئی 1933ء فرمایا : اس حادثہ (وفات حضرت سارہ بیگم صاحبہ) سے قبل میں نے کئی رویا دیکھے اور بھی بہت سے لوگوں نے دیکھے جن میں اس کی طرف اشارہ تھا۔میں جب ڈلہوزی میں تھا تو اس وقت میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ میں قادیان سے باہر ہوں اور قادیان سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں ایک ایسی وفات واقع ہوئی ہے جس سے زمین و آسمان ہل گئے ہیں۔یہ خبر سن کر میں سوچتا ہوں کہ میں اب وہاں کیسے پہنچوں گا اس وقت گویا کوئی میری تسلی کے لئے کہتا ہے کسی ہندو یا سکھ کی موت ہوگی میں اس پر کہتا ہوں کہ ہندو یا سکھ کی موت پر تو زمین و آسمان نہیں ہل سکتے پھر وہ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ اس سے ہندوؤں اور سکھوں کی زمین و آسمان مراد ہوگی۔اس کے بعد مجھے حضرت اماں جان کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو اس رویا کی طرف خیال گیا اور راستہ میں میں نے دوستوں کو یہ بتایا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا دے دی۔ڈلہوزی سے میری واپسی پر مولوی عبد الستار صاحب جو بہت مخلص ، علم اور خدا رسیدہ انسان تھے ان کی وفات ہو گئی تو میں نے اس خواب کو اس پر چسپاں کیا اور اگرچہ میری موجودگی میں وہ فوت ہوئے تھے مگر میں نے خیال کیا کہ