رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 101
101 میں ان کے سامنے کشمیر کے حالات بیان کر رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ حالات امید افزا ہیں اور درمیانی روکیں کوئی ایسی روکیں نہیں اور انہیں تحریک کرتا ہوں کہ آپ لوگ اگر کچھ رقم خرچ کریں تو آسانی سے یہ کام ہو سکتا ہے۔پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کے ساتھ ہی ان لوگوں میں حرکت شروع ہوئی اور حاضرین ایک دوسرے کے کان میں باتیں کرنے لگے اس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کاغذ پھرایا جانے لگا گویا وہ چندہ کرنے لگے ہیں میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی ہے کہ بعض اوقات جو مایوسی کی گھڑیاں آتی ہیں وہ حقیقی نہیں بلکہ درمیانی روکیں ہیں اور مسلمان اگر مال قربان کریں تو یہ کام ہو سکتا ہے۔الفضل 31 جنوری 1932 ء صفحہ 6 $1932 171 فرمایا : آج سے (چند دن پہلے میں نے رویا دیکھا تھا کہ اگر ٹیری ٹوریل میں اپنے آدمیوں کی دوسری کمپنی بڑھانے کی کوشش نہ کی گئی تو جو کمپنی موجود ہے وہ بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔اب اس سال سے اس خواب کے پورے ہونے کا سامان ہو گیا ہے اب کے 24 آدمی بغیر ہمارے مشورہ کے غیر احمدیوں میں سے لا کر داخل کر دیئے گئے ہیں اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہمارے آدمیوں کو کم کر دیا جائے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1932ء صفحہ 83 - 84 172 اگست 1932ء فرمایا اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے۔میں نے ڈلہوزی میں ایک رؤیا دیکھا کہ کوئی شخص نہایت گھبرائے ہوئے الفاظ میں لکھتا ہے۔دوڑو دو ڑو! قادیان میں ایک ایسا شخص فوت ہوا ہے جس کے فوت ہونے سے آسمان اور زمین ہل گئے ہیں۔جب میری نظر اٹھی تو میں نے دیکھا کہ واقعی آسمان بل رہا ہے اور مکان بھی ہل رہے ہیں گویا ایک زلزلہ آیا ہے۔میرے قلب پر اس کا بڑا اثر ہوا۔میں گھبرا کر پوچھتا ہوں کہ کون فوت ہوا ہے تو کوئی شخص تسلی دینے کے لئے کہتا ہے ہندوؤں میں سے کوئی فوت ہوا ہو گا۔میں نے کہا ہندؤں میں سے کسی کے فوت ہونے کے ساتھ آسمان اور زمین کے ملنے کا کیا تعلق۔وہ کہنے لگا ہندؤں کا زمین و آسمان ہل گیا ہو گا۔اس وقت جیسے کوئی ان (مولوی عبدالستار خاں صاحب (افغان) کی وفات (17۔اکتوبر 1932ء) سے دو