رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 6

6 پھیلائے اور نہایت محبت سے بچہ کی طرف جھکی ہے بچہ بھی اس کی طرف اس طرح جھکا ہے جس طرح ماں سے محبت کرانے کے لئے لپکا کرتا ہے اور اس نے اس بچہ کو ماں کی طرح ہی پیار کرنا شروع کر دیا ہے۔اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے Love Creates Love محبت محبت کو کھینچتی ہے۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ بچہ عیسی ہے اور وہ عورت مریم۔الفضل 15 - مارچ 1920ء صفحہ 8-9 پوچھا گیا کہ) اس رویا کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی۔فرمایا۔” میری عمر چودہ پندرہ سال کی ہو گی"۔الفضل 2 جون 1959ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔الفضل 20۔ستمبر 1920ء صفحہ 7 و 12 اپریل 1923ء صفحہ 7 و 6 - جولائی 1923ء صفحہ 2 و 18 - مارچ 1926ء صفحہ 7, 9 اپریل 1926ء صفحہ 6 و 5 - فروری 1929ء صفحہ 6 و 11 اپریل 1936ء صفحہ 4 و 4 - فروری 1948 ء صفحہ 4 و3- اکتوبر 1959ء صفحہ 6 و 21 - اکتوبر 1959ء صفحہ 4 و 4 - دسمبر 1960ء صفحہ 23 و 12 - اگست 1964 ء صفحہ 4 اور منہاج الطالبین ( تقریر جلسہ سالانہ 28 - دسمبر 1925 ء شائع کردہ الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ) تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ 268-269 مطبوعہ نومبر 1989ء $1904 1903 8 فرمایا : میں جب حضرت خلیفہ اول سے بخاری پڑھا کرتا تھا تو ایک رویا دیکھا جس کا تعلق اس بات سے تھا کہ ایک حدیث پڑھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے متعلق پوچھا گیا کہ کس طرح ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا كَصِلْصِلَةِ الْحَرَسِ مجھے اس سے تعجب ہوا کہ گھنٹے کی آواز سے وحی کا کیا تعلق ہے۔رویا میں میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔میں نے دیکھا کہ میرا دل ایک کٹورے کی طرح ہے جیسے مراد آبادی کٹورے ہوتے ہیں اس کو کسی نے ٹھکورا ہے جس سے ٹن ٹن کی آواز نکل رہی ہے اور جوں جوں آواز دھیمی ہوتی جاتی ہے مادہ کی شکل میں منتقل ہوتی جاتی ہے۔ہوتے ہوتے اس سے ایک میدان بن گیا ہے اس میں سے مجھے ایک تصویر سی نظر آتی ہے جو فرشتہ معلوم ہونے لگا۔میں اس میدان میں کھڑا ہو گیا اور فرشتہ نے مجھے ہلایا اور کہا کہ آگے آؤ جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا کیا میں تم کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے سکھانی شروع کی۔سکھاتے سکھاتے جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ