روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 97 of 104

روشنی کا سفر — Page 97

راضی ہیں ہم اسی میں جسمیں ترمی رضا ہو ۹۴۔اشکبار آنکھیں غمگین دل حضور کی وفات کی خبر برق رفتاری سے شہر میں پھیل گئی۔احمد یہ جماعتوں کو بذریعہ تار اس حادثہ کی اطلاع دے دی گئی او را نہیں ہدایت دی گئی کہ وہ جنازہ لے کر قادیان پہنچیں۔اسی دن یا دوسرے روز اخبارات کے ذریعے تمام ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر ملی۔یہ محض خبر نہیں تھی ایک قیامت تھی جو آنا ا نا آئی جس نے حضور کے خدام کے دل و دماغ پر ایک زلزلہ طاری کر دیا۔اُن کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور باوجود یکہ خدام کا پیارا نہیں خدائی الہامات سنا سنا کر اپنی واپسی کی متواتر اطلاع دیتا آرہا تھا اور دو سال پہلے الوصیت بھی لکھ دی تھی مگر اس کے پروانے یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ہمارا پیارا ہمارا راز داں مجسمئہ رحم و شفقت محبوبوں کا محبوب باپ سے بڑھ کر شفیق و غمگسار جس کے نورانی چہرہ پر ایک نظر سے غموں کی گھٹائیں پاش پاش ہو جاتی تھیں۔اور جس کا ہر لفظ زندگی کی ایک نئی روح پیدا کر دیتا تھا۔ہم سے کبھی جدا ہو سکتا ہے۔اہلِ قادیان کی یہ حالت تھی کہ یہاں خواجہ کمال الدین صاحب کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب صاحب کو شام کے پانچ بجے کے قریب تارمل گیا تھا اس کے باوجود کسی کو حضوڑ کی وفات کا یقین نہ آتا تھا بلکہ شبہ گزرا کہ شاید کسی دشمن کا تار ہو۔کسی نے کہا کہ کوئی آدمی بٹالہ بھیجا جائے جو لا ہور سے بذریعہ تار اصل حالات معلوم کرے۔اسی دوران میں بیت مبارک میں ایک مجمع ہو گیا۔عین اس وقت چوہدری نعمت اللہ صاحب گوہر جو صبح نو بجے تک احمد یہ بلڈنکس میں ہی تھے لاہور سے صبح دس بجے کی گاڑی سے چل کر قادیان پہنچ گئے انہوں نے حضور کی شدید علالت کا کھول کر ذکر کیا اور وہ الہامات جو حضور علیہ السلام کو دو تین روز پیشتر ہوئے تھے حاضرین کو سنائے تب کہیں لوگوں کو یقین آیا کہ حضور فی الواقعہ انتقال فرما گئے ہیں یہ معلوم کر کے قادیان اس طرح غم کدہ بن گیا جس طرح صبح 10:30 بجے احمد یہ بلڈنگز کی سرزمین بن گئی تھی۔مغرب کی نماز میں بیت مبارک کی چھت پر آہ و بکاہ اور گریہ وزاری سے حشر کا سماں تھا اور نمازیوں کے منہ سے نماز کے فقرات بھی پر آہ پوری طرح نہیں نکل سکتے تھے۔آنسوؤں کی شدت گلے میں گرہ ڈال دیتی تھی۔غرض جہاں جہاں یہ خبر پہنچی حضور کے خدام مارے غم کے دیوانے ہو گئے وہ سچ مچ سمجھتے تھے کہ ہم یتیم ہو گئے ہیں۔کوئی آنکھ نہ تھی جو اشکبار نہ ہو اور کوئی دل نہ تھا جو شدت غم سے پارہ پارہ نہ ہو رہا ہو آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو خود بخود بہتا آ رہا تھا۔-۹۵ حضرت اقدس کے گھر کے افراد کا بے مثال صبر