روشنی کا سفر — Page 26
دہم : یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔(اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889ء) جسم کو مل مل کے دھونا تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کردگار ۲۴۔آپ کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ 1890ء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور کو یہ عظیم اطلاع دی گئی کہ حضرت مسیح ناصری جن کو مسلمان آسمان پر زندہ متصور کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخری زمانے میں وہ اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان سے نازل ہو نگے۔وفات پاچکے ہیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مثیل کے طور پر دنیا کی ہدایت اور اشاعت دین حق کے لئے مبعوث کیا ہے۔اس انکشاف پر آپ نے فتح اسلام توضیح مرام اور ازالہ اوہام کے نام سے تین کتابیں شائع کیں جن میں اس دعوئی کا اعلان فرمایا۔آپ نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبوی کی روشنی میں وفات مسیح ثابت کی اور جن احادیث میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہے ان کی درست تشریح دنیا کے سامنے پیش کی اور یہ سمجھایا کہ آنے والے موعود مسیح کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے ورنہ در حقیقت مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ایک امام ہوگا۔آپ کے ان دعاوی کے نتیجے میں مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔مولوی محمد حسین بٹالوی جو آپ کی خدمت دین کے گن گایا کرتے تھے آپ کی شدید مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ کو انہوں نے حضور کی مخالفت کے لئے وقف کر دیا اور اول المکفرین بن کر آپ کی کتابوں میں موجود بعض عبارتوں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور علماء سے آپ کے متعلق کفر کے فتوے حاصل کر لئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس دشمنی میں سچ اور جھوٹ کی کوئی تمیز نہ کی اور بہت سے ایسے علماء کے نام بھی اس فتویٰ تکفیر میں شامل کر دئیے جنہوں نے حضور کے خلاف ہر گز کفر کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔نیز بعض ایسے لوگوں کے نام بھی لکھ دیئے جنہوں نے کسی اور رنگ میں بات کی تھی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی نے بدل کر اپنے مقصد کیلئے استعمال کر لیا۔کئی ایسے علماء میں سے بعض نے تردید کی اور بعض نے جب حضور کی کتابیں مکمل طور پر پڑھیں تو آپ کی سچائی پر ایمان لے آئے اور اس فتوے کے اگلے ہی سال احمدی ہو گئے۔