تحفہٴ بغداد — Page xxxvii
تفسیر بالمقابل کے کوئی غلطی نکالیں گے تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام بھی دوں گا۔۔۔۔۔۔۔تفسیر لکھنے کے وقت یہ یاد رہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل منظور نہیں ہو گی بلکہ وہی تفسیر لائق منظوری ہو گی جس میں حقائق و معارفِ جدیدہ ہوں۔بشرطیکہ کتاب اﷲ اور فرمودۂ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم سے مخالف نہ ہوں۔‘‘ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۴۹) اس مقابلہ کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’کرامات الصادقین‘‘ میں ہی یہ بھی تحریر فرمایا:۔’’ہم فراستِ ایمانیہ کے طور پر یہ پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ شیخ صاحب اِس طریق مقابلہ کو بھی ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اپنی پُرانی عادت کے موافق ٹالنے کے لئے کوشش کریں گے۔۔۔۔۔۔۔مگر اب شیخ صاحب کے لئے طریق آسان نکل آیا ہے کیونکہ اس رسالہ میں صرف شیخ صاحب ہی مخاطب نہیں بلکہ وہ تمام مکفر مولوی بھی مخاطب ہیں جو اِس عاجز متبع اﷲ اور رسولؐ کو دائرۂ اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں۔سو لازم ہے کہ شیخ صاحب نیاز مندی کے ساتھ اُن کی خدمت میں جائیں اور اُن کے آگے ہاتھ جوڑیں اور رو ویں اور اُن کے قدموں پر گِریں۔۔۔۔۔۔لیکن مشکل یہ ہے کہ اِس عاجز کو شیخ جی اور ہر یک مکفّر بد اندیش کی نسبت الہام ہو چکا ہے کہ انّی مھین من اراد اھانتک اس لئے یہ کوششیں شیخ جی کی ساری عبث ہوں گی اور اگر کوئی مولوی شوخی اور چالاکی کی راہ سے شیخ صاحب کی حمایت کے لئے اٹھے گا تو منہ کے بل گرایا جائے گا۔خدا تعالیٰ اِن متکبر مولویوں کا تکبّر توڑے گا اور انہیں دکھلائے گا کہ وہ کیونکر غریبوں کی حمایت کرتا ہے۔‘‘ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ۶۶،۶۷) اور ایسا ہی ہوا۔نہ شیخ محمد حسین بٹالوی کو ہمت ہوئی اور نہ ہی دوسرے مکفرین کو کہ وہ اِس رسالہ کے مقابلہ پر رسالہ لکھ کر اپنی عربی اور قرآن دانی کا ثبوت دیتے۔