تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvi of 417

تحفہٴ بغداد — Page xxxvi

زبان میں بالمقابل تفسیر نویسی کے لئے ’’مَیں حاضر ہوں۔حاضر ہوں۔حاضر ہوں‘‘ لکھ کر مقابلہ سے اپنی جان بچانے کے لئے وہ رکیک شرطیں لگائیں جن کا ذکر حضورؑ نے روحانی خزائن جلد ہذا کے صفحہ ۶۴۔۶۵ پر کیا ہے۔جن سے دانشمند سمجھ گئے کہ بٹالوی صاحب میدانِ مقابلہ سے گریز کر رہے ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھے اُن کے اس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر پہلے تو دل میں یہ خیال آیا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے لیکن عوام کا یہ غلط خیال دُور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علمِ ادب اور حقائق تفسیر کلام الٰہی میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اب آخری دفعہ اتمامِ حجت کے طور پر بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دا نی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے یہ رسالہ (کرامات الصادقین۔ناقل) شائع کیا جائے۔(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۴۷،۴۸) یہ رسالہ چار قصائد اور تفسیر سورۂ فاتحہ پر مشتمل ہے اور یہ قصائد صرف ایک ہفتہ کے اندر حضورؑ نے لکھے اور وہ بھی اُس وقت جب آپ آتھم کے ساتھ مباحثہ سے فارغ ہو کر امرتسر میں مقیم تھے۔مگر آپ نے بٹالوی صاحب اور اُن کے ہم مشرب مخالفوں کے لئے محض اتمامِ حجّت کی غرض سے پورے ایک ماہ کی مہلت دی اور فرمایا:۔’’اور اگر اس رسالہ کے مقابل پر میاں بطالوی یا کسی اور اُن کے ہم مشرب نے سیدھی نیّت سے اپنی طرف سے قصائد اور تفسیر سورۂ فاتحہ تالیف کر کے بصورت رسالہ شائع کر دی تو مَیں سچے دل سے وعدہ کرتاہوں کہ اگر ثالثوں کی شہادت سے یہ ثابت ہو جاوے کہ اُن کے قصائد اور اُن کی تفسیر جو سورۂ فاتحہ کے دقائق اور حقائق کے متعلق ہو گی میرے قصائد اورمیری تفسیر سے جو اس سورۂ مبارکہ کے اسرارِ لطیفہ کے بارہ میں ہے ہر پہلو سے بڑھ کر ہے تو مَیں ہزار روپیہ نقد ان میں سے ایسے شخص کو دوں گا جو روز اشاعت سے ایک ماہ کے اندر ایسے قصائد اور ایسی تفسیر بصورت رسالہ شائع کرے اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ بعد بالمقابل قصائد اور تفسیر شائع کرنے کے اگر اُن کے قصائد اور اُن کی تفسیر نحوی و صرفی اور علم بلاغت کی غلطیوں سے مبّرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد اور