تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xix of 417

تحفہٴ بغداد — Page xix

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تعارف (از حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) روحانی خزائن کی یہ جلد ہفتم ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تالیفات تحفہ بغداد کرامات الصادقین اور حمامۃ البشریٰ پر مشتمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام کا عربی اعجازی کلام مذکورہ بالا تینوں کتابیں چونکہ عربی زبان میں ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عربی کلام سے متعلق ایک مختصر نوٹ لکھ دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی کالج یا مشہور و معروف مدرسہ میں یا کسی مشہور اُستاد سے دینی یا عربی علمِ ادب کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ بعض غیر معروف اساتذہ سے عربی کی چند کتب پڑھی تھیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی تعلیم سے متعلق اپنی تصنیف ’’کتاب البریّہ‘‘ ۱؂ میں فرماتے ہیں کہ آپ چھ سال کے تھے جب آپ کے والد ماجد نے آپ کی تعلیم کے لئے ایک فارسی خوان معلم نوکر رکھا جن کا نام فضل الٰہی تھا۔اُن سے آپ نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں پڑھیں اور جب آپ کی عمر قریباً دس سال کی ہوئی تو ایک اَور استاد جن کا نام مولوی فضل احمدؐ تھا آپ نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو پڑھے۔جب آپ سترہ یا اٹھارہ سال کے ہوئے تو آپ کی تعلیم کے لئے مولوی سیّد گل علی شاہ صاحب بٹالوی کو قادیان بُلایا گیا۔اُن سے آپ نے علمِ نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علومِ مروجہ کی چند کُتب پڑھیں مولوی سید گل علی شاہ صاحب کچھ عرصہ قادیان رہے۔پھر بعض مجبوریوں کی وجہ سے واپس بٹالہ چلے گئے۔اس لئے