تحفۂ گولڑویہ — Page 301
روحانی خزائن جلد۱۷ تحفہ گولڑو به شیطان کے ہاتھ سے نجات دیتے ہیں۔ اس نجات دہی کے دعوے سے کسی پیشوا کو انکار ہے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ دوسروں نے اپنی امت کو نجات نہیں دی مگر مسیح نے دی۔ پیشگوئی میں تو کوئی کھلا کھلا تاریخی واقعہ ہونا چاہیے جو موسیٰ کے واقعہ سے مشابہ ہو نہ کہ اعتقادی امر کہ جو خود ثبوت طلب ہے۔ ظاہر ہے کہ پیشگوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ دوسری کے لئے بطور دلیل کے کام آ سکے لیکن جب ایک پیشگوئی خود دلیل کی محتاج ہے تو کس کام کی ہے مماثلت ایسے امور میں چاہیے کہ جو واقعات مشہورہ میں داخل ہوں نہ یہ کہ صرف اپنے اعتقادیات ہوں جو خود ثبوت طلب ہیں۔ بھلا انصافاً تم آپ ہی سوچو کہ موسیٰ نے تو فرعون کو مع اس کے لشکر کے ہلاک کر کے جہان کو دکھلا دیا کہ اس نے یہودیوں کو اس عذاب اور شکنجہ سے نجات دے دی جس میں وہ لوگ قریباً چار سو برس سے مبتلا چلے آتے تھے اور پھر ان کو بادشاہت بھی دے دی مگر حضرت مسیح نے اس نجات کے یہودیوں کو کیا آثار دکھلائے اور کون سا ملک ان کے حوالہ کیا اور کب یہودی ان پر ایمان لائے اور کب انہوں نے مان لیا کہ اس شخص نے موسیٰ کی طرح ہمیں نجات دے دی اور داؤد کا تخت دوبارہ قائم کیا۔ اور بالفرض اگر وہ ایمان بھی لاتے تو آئندہ جہان کی نجات تو ایک مخفی امر ہے اور ایسا مخفی امرکب اس لائق ہے کہ پیشگوئی میں ایک بدیہی امر کی طرح اس کو دکھلایا جائے ۔ جو شخص کسی مدعی نبوت پر ایمان لاتا ہے یہ ایمان تو خود ہنوز جائے بحث ہے کسی کو کیا خبر کہ وہ ایمان لانے سے نجات پاتا ہے یا انجام اس کا عذاب اور مواخذہ الہی ہے۔ پیشگوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں (۱۳۲) جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔ اس پیشگوئی کا تو یہ مطلب ہے کہ وہ نبی موسیٰ کی طرح بنی اسرائیل کو یا اُن کے بھائیوں کو ایک عذاب سے نجات دے گا اسی طرح جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو عذاب سے نجات دی تھی ۔ اور نہ صرف نجات دے گا