تحفۂ گولڑویہ — Page 268
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۶۸ تحفہ گولڑویہ خاتمہ کتاب اس خاتمہ میں ہم ناظرین کے توجہ دلانے کے لئے یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اور خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں کے رُو سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تین قسم کی مخلوق دنیا میں ظاہر ہو جائے تو سمجھو کہ مسیح موعود آ گیا یا دروازے پر ہے۔ (۱) مسیح الدجال جس کا ترجمہ ہے کہ خلیفہ ابلیس کیونکہ دجال ابلیس کے ناموں میں سے ایک نام ہے جو اس کا اسم اعظم ہے جس کے معنے ہیں کہ حق کو چھپانے والا اور جھوٹ کو رونق اور چمک دینے والا اور ہلاکت کی راہوں کو کھولنے والا اور زندگی کی راہوں پر پردہ ڈالنے والا اور یہی مقصود اعظم شیطان ہے اس لئے یہ اسم اس کا اسم اعظم ہے اور اس کے مقابل پر ہے مسیح الله الحى القيوم - جس کا ترجمہ ہے خدائے حتی وقیوم کا خلیفہ ۔ اللہ حتی قیوم بالاتفاق خدا کا اسم اعظم ہے جس کے معنے ہیں روحانی اور جسمانی طور پر زندہ کرنے والا اور ہر دو قسم کی زندگی کا دائمی سہارا اور قائم بالذات اور سب کو اپنی ذاتی کشش سے قائم رکھنے والا اور اللہ جس کا ترجمہ ہے وہ معبود ۔ یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الوراء اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عابدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جوموت ہے رجوع کر رہی ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ تمام نظام اپنے خواص کو نہیں چھوڑتا گویا ایک حکم کا پابند ہے ۔ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا اسم اعظم ہے یعنی الله الحى القيوم اس کے مقابل پر شیطان کا اسم اعظم الدجال ہے اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ آخری زمانہ میں اس کے اسم اعظم اور شیطان کے اسم اعظم کی ایک کشتی ہو جیسا کہ (۱۰۳) پہلے بھی آدم کی پیدائش کے وقت میں ایک کشتی ہوئی ہے۔ پس جیسا کہ ایک زمانہ میں