تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 242

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۴۲ مسیح موعود کے لئے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانہ میں پیدا ہو جیسا کہ یہ حدیث ہے يكون في أخر الزمان عند تظاهر من الفتن وانقطاع من الزمن اور اس بات کے ثبوت کے لئے که در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہیے دوطور کے دلائل موجود ہیں ۹۰ (۱) اول وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ خسوف کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا۔ جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمس والقمر ے میں کی گئی ہے اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت وَإِذَا الْعِشَارُ ملت سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتشرت " سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور و با پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت إِذَا السَّمَاءِ انْفَطَرَتْ سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ " سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْجِبَالُ سَيِّرَتْ سے سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں ان کا اقبال چمک اٹھنا جیسا کہ آیت وَإِذَا قرآن شریف میں سماء کا لفظ نہ صرف آسمان پر ہی بولا جاتا ہے جیسا کہ عوام کا خیال ہے بلکہ کئی معنوں پر سماء کا لفظ قرآن شریف میں آیا ہے چنانچہ مینہ کا نام بھی قرآن شریف میں سما ء ہے اور اہل عرب مینہ کو سماء کہتے ہیں اور کتب تعبیر میں سما ء سے مراد بادشاہ بھی ہوتا ہے اور آسمان کے پھٹنے سے بدعتیں اور ضلالتیں اور ہر ایک قسم کا جور اور ظلم مراد لیا جاتا ہے اور نیز ہر قسم کے فتنوں کا ظہور مراد لیا جاتا ہے۔ کتاب تعطیر الانام میں لکھا ہے فان رأى السماء انشقت دلّ على البدعة والضلالة دیکھو صفحه ۳۰۵ تعطیر الانام - منه القيامة :١٠ ٢- التكوير : ٥ ٣ الانفطار : ۴ ۴ الانفطار ۳ ۵ الانفطار : ٢ ٦ التكوير : ٢ ك التكوير :