تحفۂ گولڑویہ — Page 175
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۷۵ حالانکہ قرآن نہ اُن کے آسمان پر چڑھنے کا مصدق ہے اور نہ اُن کے اُترنے کو جائز رکھنے والا کیونکہ قرآن تو عیسی کو مار کر زمین میں دفن کرتا ہے پھر حضرت مسیح کا زندہ بجسمہ العصر کی آسمان پر چڑھا نا قرآن سے کیونکر ثابت ہو سکے ۔ کیا مردے آسمان پر چڑھیں گے۔ پس قرآن کے برخلاف حضرت عیسی کو آسمان پر چڑھانا یہ صریح قرآن شریف کی تکذیب ہے۔ ایسا ہی پھر ان کو نبوت اور وحی نبوت کے ساتھ زمین پر اُتارنا یہ بھی صریح منطوق کلام الہی کے مخالف ہے کیونکہ موجب ابطال ختم وحی نبوت ہے تو پھر افسوس ہزار افسوس کہ اس لغو حرکت سے کیا فائدہ ہوا کہ محض اپنی حکومت سے حضرت مسیح کو آسمان پر چڑھایا اور پھر اپنے ہی خیال سے کسی وقت اُترنا بھی مان لیا۔ اگر حضرت مسیح سچ سچ زمین پر اتریں گے اور پینتالیس برس تک جبرئیل وحی نبوت لے کر اُن پر نازل ہوتا رہے گا تو کیا ایسے عقیدہ سے دین اسلام باقی رہ جائے گا ؟ اور آنحضرت کی ختم نبوت اور قرآن کی ختم وحی پر کوئی داغ نہیں لگے گا؟ بعض مسلمانوں میں سے تنگ آکر اور ہر ایک پہلو سے لا جواب ہو کر یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی مسیح کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے یہ سب بیہودہ لافیں ہیں قرآن نے کہاں لکھا ہے کہ کوئی مسیح بھی دنیا میں آئے گا اور پھر کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ نری فضولی اور تکبر سے بھرا ہوا ہے۔ حدیثوں کی صد ہا باتیں بچی نہیں ہوئیں تو پھر کیونکر یقین کریں کہ کسی مسیح کا آنا کوئی حق بات ہے بلکہ ایسا دعوی کرنے والے ایک ادنی سی بات ہاتھ میں لے کر اپنی طرف لوگوں کو رجوع دینا چاہتے ہیں حالانکہ اُن کی زندگی اچھی نہیں ہے۔ مکر، فریب ، جھوٹ ، دغابازی، تکبر، بد زبانی ، شہوت پرستی، حرام خوری ، عہد شکنی ، خودستائی ، ریا کاری ، فاسقانه زندگی اُن کا طریق ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم مسیح ہیں ایسے مسیحوں سے فلاں فلاں شخص ہزار درجہ بہتر ہیں جن کی زندگی پاک اور جن کا کام مکر اور فریب اور جھوٹ اور ریا اور حرام خوری نہیں دل اور زبان اور معاملہ کے صاف ہیں کوئی متکبرانہ دعوے نہیں کرتے حالانکہ وہ ایسے شخص سے بدر جہا بہتر اور صحیح طور پر خدا کا الہام پاتے ہیں۔ کئی پیشگوئیاں اُن کی ہم نے بچشم خود پوری ہوتے دیکھیں مگر اس شخص کی ایک بھی