تحفۂ گولڑویہ — Page 174
۱۷۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ چڑھنے کا قرآن شریف کے بیان سے مخالف ہے ایسا ہی اُن کے آسمان سے اُترنے کا عقیدہ بھی قرآن کے بیان سے منافات کلی رکھتا ہے کیونکہ قرآن شریف جیسا کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي اور آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل ہے میں حضرت عیسی کو مار چکا ہے۔ ایسا ہی آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ٣ اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ : میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم خاتم الا بنیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ۔ لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پینتالیس برس تک اُن پر جبرئیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔ اب بتلاؤ کہ اُن کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختم وحی نبوت کہاں باقی رہا بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسی ہیں ۔ چنانچہ نواب مولوی صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب حجج الکرامہ کے ۴۳۲ صفحہ میں یہی لکھا ہے کہ یہ عقیدہ باطل ہے کہ گویا حضرت عیسیٰ امتی بن کر آئیں گے بلکہ وہ بدستور نبی ہوں گے اور اُن پر وحی نبوت نازل ہوگی اور ظاہر ہے کہ جبکہ وہ اپنی نبوت پر قائم رہے اور وحی نبوت بھی پینتالیس برس تک نازل ہوتی رہی تو پھر بخاری کی یہ حدیث کہ امامکم منکم کیوں کر اُن پر صادق آئے گی اور یہ خیال کہ امام سے مراد اس جگہ مہدی ہے اول تو سیاق سباق کلام کا اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ حدیث مسیح موعود کے حق میں ہے اور اسی کی اس حدیث کے سر پر تعریف ہے۔ ماسوا اس کے بقول علماء مخالفین مہدی تو صرف چند ۵۲ سال رہ کر مر جائے گا اور پھر عیسی پینتالیس سال برابر دنیا میں رہے گا حالانکہ وہ نہ اُمتی ہے اور نہ قرآنی وحی کا پیرو ہے بلکہ اُس پر آپ وحی نبوت نازل ہوتی ہے۔ سوسو چو اور فکر کرو کہ ایسا عقیدہ رکھنا دین میں کچھ تھوڑا فساد نہیں ڈالتا بلکہ تمام اسلام کو زیر وزبر کرتا ہے اور کس قدر ظلم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خود بخود آسمان پر چڑھانا اور خود بخود آسمان سے اُتارنا المائدة: ۱۱۸ ال عمران: ۱۴۵ المائدة: الاحزاب : ۴۱