تحفۂ گولڑویہ — Page 130
روحانی خزائن جلد ۱۷ اس وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدافعت نہ ہوتی تو پھر اس کے بعد کس وقت کی انتظار تھی؟ اور نیز جبکہ مسیح موعود کا صدی کے سر پر ہی آنا ضروری ہے اور چودھویں صدی میں سے سترہ برس گزر گئے تو اس صورت میں اگر اب تک مسیح نہیں آیا تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہے کہ اور سو برس تک یا اس سے بھی زیادہ اسلام کو نشانہ توہین و تحقیر رکھے لیکن اس کسر صلیب سے میری مراد وہ طریق جہاد اور کشت و خون نہیں جو حال کے اکثر علماء کا مدنظر ہے کیونکہ وہ لوگ تمام خوبیوں کو جہاد اور لڑائی پر ہی ختم کر بیٹھے ہیں۔ اور میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ مسیح یا اور کوئی دین کے لئے لڑائیاں کرتے۔ (۲) دوسری دلیل وہ بعض احادیث اور کشوف اولیاء کرام و علماء عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ چنانچہ حدیث الآيات بعد المئتین کی تشریح بہت سے متقدمین اور متاخرین نے یہی کی ہے جو ماتین کے لفظ سے وہ مأتين مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیات کبری میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔ یہی معنے محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے ۔ چنانچہ اسی بنا پر اور اگر کسی کمزور یا نابینا کے کپڑے پر کوئی پلیدی لگ جائے یا وہ شخص خود کیچڑ میں پھنس جائے تو ہماری انسانی ہمدردی کا یہ تقاضا نہیں ہو سکتا کہ ان مکر وہ اسباب کی وجہ سے اس کمز ور یا نا بینا کوقتل کر دیں بلکہ ہمارے رقم کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ ہم خود اٹھ کر محبت کی راہ سے اُس کیچڑ سے اس عاجز کے پیر باہر نکالیں اور کپڑے کو دھودیں۔ منہ