تحفۂ گولڑویہ — Page 129
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۲۹ دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قطعی فیصلہ کے طور پر یہ رائے ظاہر کرنی پڑتی ہے کہ تیرہ سو برس کی بارہ صدیوں میں سے کوئی بھی ایسی صدی اسلام کے مضر نہیں گزری کہ جیسے تیرھویں صدی گذری ہے اور یا جواب گذر رہی ہے ۔ لہذا عقل سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُر خطر زمانہ کے لئے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی نا گفتہ بہ حالت تک پہنچ گئی ہے کوئی مصلح صلیبی فتنوں کا فروکر نے والا اور اندرونی حالت کو پاک کرنے والا پیدا ہو۔ اور تیرھویں صدی کے پورے سو برس کے تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور شور سے چل رہی ہیں اور عام و با کی طرح ہر ایک شہر اور گاؤں سے کچھ کچھ اپنے قبضہ میں لا رہی ہیں ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرہ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اگلا ہے اس لئے اس زہر کی مدافعت کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ لو ہے کولو ہاہی کا تا ہے۔سواس دلیل سے روشن ہوگیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔ یہ بات بڑی سریع الفہم ہے جس کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں علت غائی مسیح کے آنے کی کسر صلیب ہے اور آج کل مذہب صلیب اُس جوانی کے جوشوں میں ہے جس سے بڑھ کر اُس کی قوتوں کا نشو ونما اور اس کے حملوں کا طریق ہیبت نما ہونا ممکن نہیں تو پھر اگر اس وجہ سے اس سے زیادہ بختی ممکن نہیں کہ جس قدر اسلام پر ابتلا آنا تھا آ گیا اب اس سے زیادہ اس امت مرحومہ پر ابتلا نہیں آسکتا کیونکہ اگر اس سے زیادہ مخالفت کی کامیابی ہو جائے تو قرائن قویہ صاف گواہی دے رہے ہیں کہ اسلام کا بکلی استیصال ہو جائے۔ لہذا ضروری تھا کہ اس درجہ کے ابتلا پر مسیح کا سر الصلیب آجاتا اور اس سے زیادہ اسلام کو خفت نہ اٹھانی پڑتی ۔ منہ