تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 95

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۹۵ بھی نہیں دیکھا تھا ان میں سے کچھ نہ کھایا یہاں تک کہ بھوک سے مر گیا اور اس لئے نہ کھایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ اُن کھانوں سے چھو گئے تھے۔ اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے کہ جن دلائل قاطعہ کو اُن کے خیال میں میرے ہاتھوں نے چھوا اُن سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے مگر میں بار بار کہتا ہوں کہ ہندومت بنو یہ دلائل میرے نہیں ہیں اور نہ میرے ہاتھ ان کو چھوئے ہیں بلکہ یہ تو سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں شوق سے ان کو استعمال کرو۔ دیکھو کس قدر نصوص قرآنیہ حضرت مسیح کی وفات پر گواہی دے رہی ہیں ۔ نصوص حدیثیہ گواہی دے رہی ہیں صحابہ کا اجماع گواہی دے رہا ہے۔ ائمہ اربعہ کی شہادت گواہی دے رہی ہے۔ سنت قدیمہ جو موید بایت لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا ہے گواہی دے رہی ہے پھر بھی اگر نہ مانو تو سخت بدنصیبی ہے۔ قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور نظیر سنت قدیمہ کے بعد کونسا شک باقی ہے۔ افسوس یہ بھی نہیں سوچتے کہ دوبارہ نزول کا مقدمہ حضرت مسیح کی عدالت سے پہلے فیصلہ پاچکا ہے اور ڈگری ہماری تائید میں ہوئی ہے۔ اور حضرت مسیح نے یہودیوں کے اس خیال کو کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گارڈ کر دیا ہے اور مجاز اور استعارہ کے طور پر اس پیشگوئی کو قرار دے دیا ہے اور مصداق ایلیا کا حضرت یوحنا یعنی یحیی کو ٹھہرایا ہے۔ دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فیصلہ کس قدر تمہارے مسئلہ متنازعہ فیہ کو صاف کر رہا ہے سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اُس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔ بھلا بتلاؤ کہ مثلاً دو فریق میں ایک امر متنازعہ فیہ ہے اور منجملہ ان کے ایک فریق نے اپنی تائید میں ایک نبی معصوم کے فیصلہ کی نظیر پیش کر دی ہے اور دوسرا نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اب ان دونوں میں سے احق بالامن کون ہے ؟ بینوا توجروا ۔ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں تا کسی نبی کی کوئی خصوصیت منجر بہ شرک نہ ہو جائے ۔ اب بتلاؤ کہ ایک طرف تو نصاریٰ حضرت مسیح کی اس قدر لمبی زندگی کو اُن کی خدائی پر دلیل ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب دنیا میں بجز اُن کے الفتح : ٢٤