تحفۂ گولڑویہ — Page 94
روحانی خزائن جلد۱۷ ۹۴ كنت السواد لناظری۔ فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت۔ فعلیک کنت احاذر یعنی اے میرے پیارے نبی ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھی اور میرے دیدوں کا نور تھا۔ پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں عیسیٰ مرے یا موسیٰ مرے۔ کوئی مرے مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔ دیکھو عشق محبت اسے کہتے ہیں جب صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ وہ نبی افضل الانبیاء جن کی زندگی کی اشد ضرورت تھی عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو گئے تو وہ اس کلمہ سے سخت بیزار ہو گئے کہ آنحضرت تو مر جائیں مگر کسی دوسرے کو زندہ رسول کہا جائے۔ افسوس ہے آج کل کے مسلمانوں پر کہ پادریوں کے ہاتھ سے اس بحث میں سخت ذلیل بھی ہوتے ہیں اور لاجواب اور کھسیانے ہو کر بحث کو ترک بھی کر دیتے ہیں مگر اس عقیدہ سے باز نہیں آتے کہ زندہ رسول فقط عیسی علیہ السلام ہے جو آسمان کے تخت پر بیٹھا ہوا دوبارہ آنے سے محمدی ختم نبوت کو داغ لگانا چاہتا ہے۔ افسوس کہ یہ علماء اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ حضرت سید الرسل و سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مردہ رسول قرار دینا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک زندہ رسول مانا اس میں جناب خاتم الانبیاء صل اللہ علیہ وسلم کی بڑی بہتک ہے اور یہی وہ جھوٹا عقیدہ ہے جس کی شامت کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس زمانہ میں مرتد ہو چکے ہیں اور اصطباغ لئے ہوئے گر جاؤں میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ اس باطل عقیدہ سے باز نہیں آتے بلکہ میری مخالفت کی وجہ سے اور بھی اس میں اصرار کرتے اور حد سے بڑھتے جاتے ہیں بلکہ بعض نابکار مولوی یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عیسی مسیح سے نسبت ہی کیا ہے وہ تو از سم ملائکہ تھا نہ انسان ۔ اور صاف اور صریح اور روشن دلائل حضرت مسیح کی موت پر پیش کئے گئے ان کو میرے بغض سے مانتے نہیں اور اُن کی اُس ہندو کی مثال ہے کہ ایک ایسے موقع پر جہاں صرف مسلمان رہتے تھے سخت بھوکا اور قریب الموت ہو گیا مگر مسلمانوں کے کھانے جو نہایت نفیس اور لذیذ موجود تھے جن کو اس ہندو کے کبھی باپ دادے نے