تحفۂ گولڑویہ — Page 56
روحانی خزائن جلد۱۷ ۵۶ ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ ہونے کا دعوی کر کے قوم کا مصلح قرار نہیں دیتا اور نہ نبوت اور رسالت کا مدعی بنتا ہے اور محض ہنسی کے طور پر یا لوگوں کو اپنا رسوخ جتلانے کے لئے دعوی کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی اور یا الہام ہوا اور جھوٹ بولتا ہے یا اس میں جھوٹ ملاتا ہے وہ اس نجاست کے کیڑے کی طرح ہے جو نجاست میں ہی پیدا ہوتا ہے اور نجاست میں ہی مر جاتا ہے۔ ایسا خبیث اس لائق نہیں کہ خدا اس کو یہ عزت دے کہ تو نے اگر میرے پر افترا کیا تو میں تجھے ہلاک کر دوں گا بلکہ وہ بوجہ اپنی (۱۳) نہایت درجہ کی ذلت کے قابل التفات نہیں کوئی شخص اُس کی پیروی نہیں کرتا کوئی اُس کو نبی یا رسول یا مامور من اللہ نہیں سمجھتا۔ ماسوا اس کے یہ بھی ثابت کرنا چاہیے کہ اس مفتر یا نہ عادت پر برابر تیس برس گزر گئے ۔ ہمیں حافظ محمد یوسف صاحب کی بہت کچھ واقفیت نہیں مگر یہ بھی امید نہیں۔ خدا اُن کے اندرونی اعمال بہتر جانتا ہے۔ اُن کے دو قول تو ہمیں یاد ہیں اور سنا ہے کہ اب ان سے وہ انکار کرتے ہیں (۱) ایک یہ کہ چند سال کا عرصہ گذرا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مولوی عبداللہ غزنوی نے میرے پاس بیان کیا کہ آسمان سے ایک نور قادیاں پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی۔ (۲) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانی تمثل کے طور پر ظاہر ہو کر اُن کو کہا کہ مرزا غلام احمد حق پر ہے کیوں لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اب مجھے خیال آتا ہے کہ اگر حافظ صاحب ان دو واقعات سے اب انکار کرتے ہیں جن کو بار بار بہت سے لوگوں کے پاس بیان کر چکے ہیں تو نعوذ باللہ بے شک انہوں نے خدا تعالیٰ پر افترا کیا ہے کیونکہ جو شخص سچ کہتا ہے اگر وہ مر بھی جائے تب بھی انکار نہیں کر سکتا جید میں ہرگز قبول نہیں کروں گا کہ حافظ صاحب ان ہر دو واقعات سے انکار کرتے ہیں۔ ان واقعات کا گواہ نہ صرف میں ہوں بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت گواہ ہے اور کتاب ازالہ اوہام میں ان کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کا کشف درج ہو چکا ہے۔ میں تو یقیناً جانتا ہوں کہ حافظ صاحب ایسا کذب صریح ہرگز زبان پر نہیں لائیں گے گو قوم کی طرف سے ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں۔ اُن کے بھائی محمد یعقوب نے تو انکار نہیں کیا تو وہ کیونکر کریں گے ۔ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔ منہ