تریاق القلوب — Page 469
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۹ تریاق القلوب میں بھی اس کی طرف اشارہ تھا لیکن بعد اس کے بوضاحت تمام الہام الہی نے یہ بات کھول دی اور مجھ کو اچھی طرح بتلایا گیا کہ سید صاحب ایک شدید غم اٹھانے کے بعد جلد فوت ہو جائیں گے۔ پھر جبکہ سید صاحب کو ایک ہندو کی شرارت سے مالی نم پیش آگیا تو مجھے یقین دلایا گیا کہ اب سید صاحب کی وفات کا وقت آگیا۔ تب میں نے یہ اشتہار ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء شائع کر کے ایک پر چہ اُن کو بھی بھیج دیا اور وہ اشتہار یہ ہے۔ نقل مطابق اصل بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم سید احمد خاں صاحب کے سی ۔ ایس ۔ آئی سید صاحب اپنے رسالہ الدعـا والاستجابت میں اس بات سے انکاری ہیں کہ دعا میں جو کچھ مانگا جائے وہ دیا جائے ۔ اگر سید صاحب کی تحریر کا یہ مطلب ہوتا کہ ہر ایک دعا کا قبول ہونا واجب نہیں بلکہ جس دعا کو خدا تعالیٰ قبول فرمانا اپنے مصالح کے رو سے پسند فرماتا ہے وہ دعا قبول ہو جاتی ہے ورنہ نہیں تو یہ قول بالکل سچ ہوتا مگر سرے سے قبولیت دعا سے انکار کرنا تو خلاف تجارب صحیحہ و عقل و نقل ہے۔ ہاں دعاؤں کی قبولیت کے لئے اُس روحانی حالت کی ضرورت ہے جس میں انسان نفسانی جذبات اور میل غیر اللہ کا چولہ اتار کر اور بالکل روح ہو کر خدا تعالیٰ سے جاملتا ہے ۔ ایسا شخص مظہر العجائب ہوتا ہے اور اس کی محبت کی موجیں خدا کی محبت کی موجوں سے یوں ایک ہو جاتی ہیں (۱۵۲ جیسا کہ دو شفاف پانی دو متقارب چشموں سے جوش مار کر آپس میں مل کر بہنا شروع