تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 769

تریاق القلوب — Page 468

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۸ تریاق القلوب دکھائیں اور میں تعریف کرتا پھروں گا تب ریاست اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک لاکھ روپیہ دے دے گی اس میں دو حصے میرے اور ایک حصہ آپ کا ہوا ۔ “ گو یا اس تقریر میں وہ ٹھگ جو سادھو کہلاتے ہیں مجھے قرار دیا ۔ ایسا ہی اور کئی باتیں تھیں جن کا اب اُن کی وفات کے بعد لکھنا بے فائدہ ہے ۔ اس قدر تحریر سے غرض یہ ہے کہ اس پہلو کی کمزوری بھی ان میں موجود تھی جو دولت اور عزت اور ناموری تک پہنچ کر تکبر اور نخوت اور رعونت اور خود پسندی کے رنگ میں ظہور میں آتی ہے اور یہ اُن کا قصور نہیں ہے بلکہ ہر ایک دنیا دار کا یہی حال ہے کہ وہ دو قسم کی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے مثلاً ایک شخص جو مولوی کے خطاب سے مشہور ہے وہ اپنے تئیں مولوی کہلا کر نہیں چاہتا کہ دوسرے کا عزت سے نام بھی لے بلکہ اس کی بڑی مہربانی ہوگی اگر وہ دوسرے کو منشی بھی کہہ دے ۔ بہت سے دولتمند رئیس یا مسلمان حکام ہیں وہ اس بات کو اپنے لئے سخت عار سمجھتے ہیں کہ کسی السلام علیکم کا جواب دیں اور اگر کوئی السلام علیکم کہے تو بہت بُرا مانتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو سزا دے دیں۔ یہ تمام کمزوری کے طریق ہیں اور اس کو چراغ نبوت سے روشنی لینے والے اخلاقی کمزوری سے نامزد کرتے ہیں غرض سید احمد خاں صاحب کی موت بھی آخر کمزوری کی وجہ سے ہوئی ۔ خدا اُن پر رحم کرے۔ اب ہم اس اشتہار مورخہ ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو جس میں سید احمد خاں صاحب کی موت کی نسبت پیشگوئی ہے بعینہ اس جگہ درج کر دیتے ہیں اور یہ اشتہار لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا ہے اور ہم بہت سے لوگوں کو قبل از وقت زبانی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے معلوم کرا دیا ہے کہ اب عنقریب سید صاحب فوت ہو جا ئیں گے اور اشتہا ر ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء