تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 769

تریاق القلوب — Page 403

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۰۳ تریاق القلوب موجود ہیں کہ جس سے بڑھ کر اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ۔ اور جس اعلیٰ ثبوت پر اس پیشگوئی کے یہ تینوں پہلو پائے جاتے ہیں میں ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ اس کی نظیر اسلامی تاریخ کے تیرہ سو برس میں یا عیسوی تاریخ کے اٹھارہ سو برس میں مل سکے۔ ظاہر ہے کہ اس کا پہلا پہلو یعنی نفس پیشگوئی کو عام طور پر شائع کرنا ایسا اس ملک کے تمام فرقوں میں ایک شہرت یافتہ امر ہے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی اشاعت نہ صرف میں نے کی تھی بلکہ لیکھرام نے بھی اپنی کتابوں میں آپ کی تھی اور دوسرے ہندو اور مسلمان اخباروں نے بھی کی تھی اور فریقین نے قبل از وقت اس پیشگوئی کے بارے میں اس قدر تحریریں نکالی تھیں کہ یہ واقعی امر ہے کہ پنجاب کے کل اور تمام وہ لوگ جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے کسی قدر پڑھے لکھے تھے اس پیشگوئی کے مضمون سے اطلاع رکھتے تھے اور انجام کے منتظر تھے۔ اور دوسرا پہلو یعنی کیا یہ پیشگوئی ایک معمولی بات تھی جیسا کہ مثلاً کوئی خبر دے کہ برسات میں کوئی بارش ہو جائے گی یا در حقیقت اس میں کوئی خارق عادت امر تھا۔ پس واضح ہو کہ اس پیشگوئی کا یہ پہلو بھی نہایت روشن ہے کیونکہ یہ پیشگوئی نہ ایک خارق عادت امر پر بلکہ کئی خارق عادت امور پر مشتمل تھی کیونکہ پیشگوئی میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ لیکھر ام جوانی کی حالت میں ہی مرے گا اور بذریعہ قتل کے مرے گا۔ کسی بیماری تب یا ہیضہ وغیرہ سے نہیں مرے گا اور قتل کا واقعہ بھی ایسا دہشت ناک ہوگا جو دلوں کو ہلا دے گا اور نیز یہ کہ اس کی موت پرشور بر پا ہوگا اور غوغا اُٹھے گا۔ اور نیز یہ کہ یہ واقعہ چھ برس کے اندر ظہور میں آجائے گا اور نیز یہ کہ روز قتل شنبہ کا دن ہوگا اور نیز یہ کہ عید کے دن سے وہ دن ملا ہوا ہوگا یعنی دوسری شوال ہوگی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ تمام امور انسانی علم اور انکل سے بالا تر ہیں اور کسی کے