تریاق القلوب — Page 402
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۰۲ تریاق القلوب غرض یہ پیشگوئی ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے اور جس قدر کوئی طالب حق اس میں غور کرے گا اُسی قدر حق الیقین کے مرتبہ سے نزدیک ہوتا جائے گا۔ جو شخص نیک نیتی سے ہدایت کا طالب ہو اُس کو سوچنا چاہیے کہ ہمیشہ پیشگوئیوں کے تین پہلو قابل غور ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ ہر ایک پیشگوئی میں دیکھا جاتا ہے کہ جب وہ لوگوں کے سامنے بیان کی گئی یا شائع کی گئی تو کیا اُس کی اشاعت ایک ایسے درجہ تک پہنچ گئی تھی جو اطمینان بخش ہو اور کیا اُس کی ایسی شہرت ہو گئی تھی جس کو عام شہرت کہہ سکتے ہیں یا اُس کا نام تو اتر رکھ سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ قابل غور ہوتا ہے کہ جب کوئی پیشگوئی شائع کی گئی اور تمام موافقوں اور مخالفوں میں پھیلائی گئی تو کیا اُس کے مضمون میں کوئی خارق عادت بیان تھا جو انسانی انکلوں کے دائرہ سے بالا تر خیال کیا جاتا یا ایسا بیان تھا کہ ایک منظمند علم ہیئت یا طبعی سے مدد لے کر یا کسی اور طریقہ سے بیان کر سکتا ہے۔ تیسرا پہلو جو پیشگوئیوں میں قابل غور ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ایک پیشگوئی جس قوت اور عام شہرت سے پھیلا ئی گئی تھی اسی طرح عام شہرت کی شہادت سے پوری بھی ہوگئی یا نہیں ۔ سو اب سوچ کر دیکھ لو کہ یہ تینوں پہلو اس پیشگوئی میں ایسے اکمل اور اتم طور پر یا اس پیشگوئی کی عظمت حدیث نبوی کے رُو سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ایک حدیث نبوی کا منشاء یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک شخص قتل کیا جائے گا اور آسمانی آواز جو رمضان میں آئے گی گواہی دے گی کہ وہ شخص غضب الہی سے مارا گیا اور شیطان آواز دے گا کہ وہ مظلوم مارا گیا حالانکہ اُس کا مارا جانا مسیح کے لئے بطور نشان کے ہوگا ۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ جیسا کہ برکات الدعا کے آخری صفحہ ٹائٹل پیچ سے ظاہر ہے آسمانی آواز نے ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ کو لوگوں کو مطلع کیا کہ ایک فرشتہ لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا گیا ہے اور شیطان نے سچائی کے دشمنوں کے دلوں میں ہو کر یہ آواز دی کہ لیکھرام مظلوم مارا گیا ۔ سو یہ پیشگوئی مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مشترک ہے اس لئے عظیم الشان ہے۔ منه