تریاق القلوب — Page 361
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۱ تریاق القلوب ہر ایک وقت پیشگوئی کے دنوں میں اُس کے چہرہ سے ظاہر تھا ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جبکہ میرے مباحثہ کا نام عیسائیوں نے جنگ مقدس رکھا تھا تو اس جنگ میں اس سے زیادہ اور کیا فتح ہو سکتی تھی کہ وہ تینوں حملوں کے موقعہ پر ثابت کر دکھاتا کہ پیشگوئی کے سچا کرنے کے لئے کیسی شرارت اور کمینہ پن ظہور میں آیا۔ اور یہ کیسی نا پاک کارروائی ہوئی کہ اوّل جھوٹی پیشگوئی کی گئی اور پھر اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے یہ قابل شرم کا م کیا کہ تین حملے کئے ۔ کون دانا اس بات کو باور کرے گا کہ ایک مذہبی حریف کی طرف سے تین حملے ہوں اور حضرات عیسائی صاحبان جن کا دن رات نکتہ چینیاں کام ہے وہ خاموش رہیں اور ایسے دشمن کے ساتھ کر میمانہ اخلاق کے ساتھ پیش آویں۔ ظاہر ہے کہ اس شریرانہ اور مفسدانہ کارروائی کی قلعی کھولنا اُن کے لئے تو ایک فتح عظیم تھا۔ لعنت ہے ایسے کانشنس پر کہ جو ایسی موٹی بات کو بھی سمجھ نہ سکے ۔ کیا وہ قوم جو افترا کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزار ہا بہتان لگاتی اور بالمقابل ایک بات سننے کی برداشت نہیں کرتی بلکہ فی الفور حکام کی طرف رجوع کرتے ہیں اُنہوں نے میرے پر یہ احسان کیا کہ سواروں اور پیادوں کو جان لینے کے لئے حملے کرتے دیکھا پھر بھی صادقوں اور صابروں کی طرح چپ رہے۔ حالانکہ ایسے موقع پر تو ایک نبی بھی چپ نہیں رہ سکتا ۔ حضرت مسیح نے بھی الزام دینے کے وقت زبان کو بند نہیں رکھا کیونکہ جس خاموشی کا مذہب پر بداثر پڑے اور جھوٹا صادق سمجھا جائے یا ایک صادق جھوٹا سمجھا جائے وہ خاموشی حرام ہے ۔ پھر آتھم صاحب نے ان حملوں کو دیکھ کر برا بر پندرہ مہینے تک کیوں ایسی خاموشی اختیار کی ۔ بھلا کوئی عیسائی ہے جو اس کا سبب بتلاوے یا ایسے حضرات مسلمان جو جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی جواب دیں۔ پھر صرف اسی پر اکتفا نہیں