تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 769

تریاق القلوب — Page 360

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۰ تریاق القلور بلکہ اس سے تو اُس کا اور بھی قصور وار ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اُس کے لئے تو بہتر تھا کہ ایسے بیہودہ عذرات پیش ہی نہیں کرتا اور خاموش رہتا کیونکہ ان عذرات نے اُس کو کچھ فائدہ نہیں دیا بلکہ ان سے تو وہ صاف الزام کے نیچے آ گیا کیونکہ جس حالت میں اُس کی جان لینے کے لئے اس پر تین حملے میں نے کئے تھے تو ایسے حملوں کے بعد جن کی نوبت تین تک پہنچ چکی تھی کیوں وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر خاموش بیٹھا رہا وہ تو مدت تک اکسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا ۔ اُس کو خوب معلوم تھا کہ وہ قانونی تدارک سے نہایت آسانی سے امن میں آسکتا ہے ۔ کیا اُس کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۰۷ یا د نہیں رہی تھی یا تعزیرات ہند کے اقدام قتل کی دفعہ اُس کے ذہن سے محو ہو گئی تھی وہ اس حالت میں کہ ہماری طرف سے اُس کے قتل کے لئے تین حملے ہوئے تھے بڑی آسانی سے عدالت میں استغاثہ کر سکتا تھا کہ نقض امن کا اندیشہ دور کرنے کے لئے ایک بھاری تعداد کی ضمانت مجھ سے لی جائے بلکہ وہ ان تین حملوں کی تحقیقات کرا کر مجھے سزا یاب کرا سکتا تھا اور کم سے کم یہ کہ وہ پولس میں رپورٹ دے سکتا تھا کہ ایسی ناجائز کا رروائی میرے لئے متواتر کی گئی ہے۔ اب طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اُس نے ایسا نہ کیا نہ پیشگوئی کے زمانہ میں اور نہ اُس زمانہ کے بعد یہ کارروائی کی بلکہ بعض عیسائیوں نے اُس کو بہت ہی اٹھایا کہ ہم تیری جگہ مقدمہ کی پیروی کریں گے تو صرف دستخط کر دے تو اُس نے صاف انکار کر دیا۔ اس کا کیا باعث ہے؟ اس کا یہی باعث ہے کہ وہ اپنے دل میں خوب جانتا تھا کہ یہ تینوں حملوں کاعذرسراسر جھوٹا اور بے اصل ہے اور محض اُس خوف کے چھپانے کے لئے بنایا گیا ہے جو